مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:36
بریکنگ
یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکارالبانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتارپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیکراچی: عزیز آباد میں فائرنگ سے ایک شخص زخمیپاکستان اور چین کا مالیاتی تعاون بڑھانے اور مزید پانڈا بانڈز کے اجرا پر اتفاقامریکا کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر مسعود پزشکیاناقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتامریکی صدر ٹرمپ کی نئی ترجمان کی تعلیمی اسناد اور قانونی اہلیت پر سوالاتتعلیمی اداروں میں بدگمانی کا خاتمہ: حسنِ ظن اور تحقیق کی اہمیت
دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس

امریکی صدر نے فورٹ ہڈ فائرنگ کیس کے مجرم کی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا متنازع منصوبہ ترک کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نضال حسن امریکی فوج میں بطور ماہرِ نفسیات خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

صدر ٹرمپ کا ابتدائی مؤقف یہ تھا کہ اس پھانسی کو آن لائن براہِ راست دکھایا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے اور یہ منظر ایک عبرت کا نشان بن سکے۔

تاہم اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد امریکی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی صدر کے اس فیصلے سے کھل کر اختلاف کیا اور کہا کہ وہ خود اس قسم کی نشریات دیکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔

اس معاملے پر امریکا کے 72 ریٹائرڈ جرنیلوں، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

ان فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نشریات اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہوں گی۔ دباؤ بڑھنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نیک نیت لوگ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نضال حسن کی سزائے موت پر اپنے مقررہ وقت پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم اب اسے کسی بھی پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی تشہیر کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 5 نومبر 2009 کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں نضال حسن نے فوجی اڈے کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے نضال حسن کی سزا پر عمل درآمد کا معاملہ طویل عرصے تک قانونی پیچیدگیوں اور بحث کا شکار رہا ہے۔ اب جبکہ حتمی فیصلہ سامنے آ چکا ہے، سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور مجرم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے گی، تاہم اخلاقی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نشریات سے گریز کیا جائے گا۔

اس فیصلے کا خیرمقدم ان حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو اسے ایک غیر روایتی اور غیر ضروری اقدام قرار دے رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی عدالتی اور فوجی روایات کے عین مطابق ہے۔

واضح رہے کہ نضال حسن کا کیس امریکی تاریخ کے اہم ترین فوجی مقدمات میں سے ایک رہا ہے جس نے طویل عرصے تک عوامی اور حکومتی سطح پر توجہ حاصل کیے رکھی ہے۔

اب جبکہ براہِ راست نشریات کا تنازع ختم ہو چکا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں