مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:37
بریکنگ
یمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی او ایم کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتسفید چھڑی کا عالمی دن: مریم نواز کا بصارت سے محروم افراد کے عزم کو خراج تحسینپشاور: عمرہ زائرین کیلئے بغیر ویکسی نیشن سفر کی تاریخ میں توسیعملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک، بالائی حصوں میں بارش کا امکانسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات 2026-27 کے لیے حتمی امیدواروں کی فہرست جاریجمہوری نظام کو ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے، فیصل واوڈا کا بیانخیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نگار جوہربینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغازمیرا بہترین کرکٹ دور ابھی آنا باقی ہے، نسیم شاہ کا عزمخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: سینیٹر علی ظفر کا حکومت سے رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہاسلام آباد کے ہفتہ وار بازار کل سے بند کرنے کا فیصلہ، باضابطہ نوٹیفکیشن جاریبالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاریبالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم جاریحوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی: ترجمانپی ٹی اے کی جانب سے بہتر کالنگ اور انٹرنیٹ سروس کی ہدایات جاریبجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئی
شوبز

بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری

امریکی شہری اور بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ممبئی میں احتجاج میں شرکت پر ملک چھوڑنے کا نوٹس ملا ہے۔

بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری

بالی ووڈ کے معروف اداکار اور نامور فلمساز عامر خان کے بھانجے عمران خان کو ممبئی پولیس نے بھارت چھوڑنے کا باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اداکار کو 28 اکتوبر تک ہر صورت ملک چھوڑنے کی سخت ہدایت جاری کی گئی ہے۔ یہ سارا معاملہ ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان میں منعقد ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے شرکت کی تھی۔

ممبئی میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران شرکاء کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں اداکار عمران خان اپنی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن اور اپنی فرسٹ کزن زین میری خان کے ساتھ بھرپور طریقے سے شریک ہوئے تھے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر انہیں دیگر افراد کے ہمراہ حراست میں بھی لیا تھا جس کی مختلف ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی تھیں۔

اس واقعے کے بعد سے بھارتی حلقوں میں اداکار کی شہریت اور ان کی قانونی حیثیت کو لے کر ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان پیدائشی طور پر بھارتی شہری نہیں ہیں بلکہ وہ ایک امریکی شہری ہیں جن کی پیدائش ریاست وسکونسن میں ہوئی تھی۔ ان کے پاس امریکی پاسپورٹ موجود ہے جبکہ بھارت کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کارڈ بھی ان کے پاس ہے۔

قانون کے مطابق بیرون ملک کے شہریوں کو بھارت میں رہائش کے لیے مخصوص دستاویزات فراہم کی جاتی ہیں جن کے تحت وہ یہاں مقیم رہ سکتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے میں مبینہ طور پر شرکت کرنے پر ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ قانون کے ماہرین اس معاملے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس پوری صورتحال کی قانونی حیثیت کو واضح کیا جا سکے اور تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔

اس تمام معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ کیریٹ سومیا نے بھی انتہائی سخت اعتراض اٹھایا تھا۔ انہوں نے مرکزی وزارت داخلہ اور امیگریشن کے اعلیٰ حکام کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا تھا جس میں اداکار کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سابق رہنما کا کہنا تھا کہ اس قسم کی سرگرمیوں میں غیر ملکی شہریوں کی شرکت کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

سابق رہنما نے اپنے تحریری خط میں یہ بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ ایک امریکی شہری اور او سی آئی کارڈ ہولڈر ہونے کے ناطے وہ بھارت کی داخلی سیاست اور اس نوعیت کے حساس احتجاجی مظاہروں میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے پولیس اور متعلقہ اداروں سے اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے اور قواعد کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لانے کی پرزور درخواست بھی کی تھی۔

عمران خان نے اپنی اداکاری کے کیریئر کا آغاز بالی ووڈ فلم انڈسٹری سے کیا تھا اور انہوں نے کئی نامور فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے جانے تو یا جانے نا، آئی ہیٹ لو اسٹوریز اور میرے برادر کی دلہن جیسی مشہور فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں اور فلمی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ شائقین آج بھی ان کی فلموں اور اداکاری کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں کیونکہ ان کا انداز کافی مقبول رہا ہے۔

ممبئی پولیس کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سے بھارتی میڈیا، سیاسی حلقوں اور فلمی دنیا میں اس معاملے پر بحث اور تبصروں کا سلسلہ انتہائی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ او سی آئی کارڈ ہولڈرز کو حاصل حقوق اور ان پر لاگو ہونے والے ملکی قوانین کے حوالے سے بھی ماہرین کی طرف سے مختلف اور متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ان تمام ہنگامہ آرائیوں اور خبروں کے باوجود ابھی تک اداکار عمران خان یا ان کے ترجمان کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام بھی اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور موصولہ شکایات کی روشنی میں قواعد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا اس حوالے سے یہ ماننا ہے کہ او سی آئی کارڈ ہولڈرز کو بھارت میں سیاسی سرگرمیوں یا احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسی نکتے کی بنیاد پر اداکار کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی قانون شکنی کو روکا جا سکے۔

عمران خان کے مداح اس خبر کے سامنے آنے کے بعد کافی تشویش کا شکار ہیں اور سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں کیونکہ عمران خان کا تعلق ایک معروف فلمی خاندان سے ہے۔ ان کے ماموں عامر خان بالی ووڈ کے صف اول کے اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس خاندانی پس منظر نے بھی اس خبر کو میڈیا میں مزید اہمیت دلا دی ہے۔

ممبئی پولیس کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں دی گئی تاریخ یعنی 28 اکتوبر اب قریب آ رہی ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے اداکار کی جانب سے کوئی قانونی جواب داخل کیا جاتا ہے یا وہ اس نوٹس کے تناظر میں کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ حکام کا موقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس پر عمل درآمد کرانا ان کی اولین ذمے داری ہے۔

بھارتی میڈیا میں اس خبر کے نشر ہونے کے بعد سے اس پر بحث میں مزید شدت آ گئی ہے اور مختلف ٹی وی چینلز پر اس کے قانونی پہلوؤں پر طویل مباحثے جاری ہیں۔ عام لوگ بھی اس معاملے پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ سیاسی شخصیات کے بیانات بھی اس خبر کو مزید گرمانے کا سبب بن رہے ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں اس معاملے میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے جس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

اس پوری صورتحال نے او سی آئی کارڈ ہولڈرز کے لیے ضابطہ اخلاق کی پابندی کے معاملے کو ایک بار پھر سرِفہرست لا کھڑا کیا ہے۔ غیر ملکی شہریت کے حامل افراد کے لیے بھارتی قوانین کے تحت عائد کردہ حدود و قیود پر اب زیادہ سختی سے عمل درآمد کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی اس کارروائی کو آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے دیگر معاملات کے لیے بھی ایک اہم قانونی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا.

شوبز کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں