وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہر موقع پر بات چیت کو اولین ترجیح دی اور مذاکرات کے دوران سب سے پہلے دہشتگردی کا اہم ترین نکتہ اٹھایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں بیٹھے افراد نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا جبکہ حکومت نے مذاکرات کی میز سے اٹھنے کی بجائے ہمیشہ تمام مسائل کے پرامن حل کی سنجیدہ کوشش کی۔
وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم نے کبھی فریق مقابل کو جلدی کرنے کا نہیں کہا بلکہ ہم تو مسلسل یہ مؤقف اپناتے رہے کہ یہ لڑائی مشترکہ ہے اور اس کی بھرپور قیادت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم نے ہر مرحلے پر خود آگے بڑھ کر مذاکرات کیے اور فریق مقابل سے کوئی بھی ذاتی مفاد یا چیز طلب نہیں کی بلکہ قومی سلامتی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
محسن نقوی نے پارلیمنٹ کے ایوان میں انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کبھی کسی بھی انسدادِ دہشتگردی کے عسکری آپریشن میں پاک فوج کے شانہ بشانہ شرکت نہیں کی اور ان کا ہمیشہ یہی مؤقف رہا کہ وہ سیاسی طور پر اس اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسد قیصر کی جانب سے بھی دہشتگردی کے معاملے پر بات کی گئی تھی اور وہ اس پر دستخط کرنے کو بھی پوری طرح تیار تھے۔
وزیر داخلہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر متعلقہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کی تھی اور صوبے کے پانچ حساس اضلاع کے لیے ایک باقاعدہ جامع پلان تیار کیا گیا تھا تاہم ان کو کون روکتا تھا یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے امن کی خاطر ہمیشہ خود پہل کی اور پوری خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔
صحت کے اہم شعبے اور دیگر متعلقہ عوامی مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ اپوزیشن ایک سال تک صحت کے امور پر مسلسل بات کرتی رہی اور ہم نے اس سلسلے میں علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی ملاقات کر کے ڈاکٹرز سے تفصیلی بریفنگ دلوائی۔ انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ آنکھ کے علاج کے حساس مسئلے پر بھی حکومت کی جانب سے پوری رضامندی اور نرمی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے یہ بھی بتایا کہ چند ہفتے قبل تک بھی فریقین کے درمیان باضابطہ ملاقاتیں جاری تھیں اور آنے والے دنوں میں بھی رابطے ہوتے رہیں گے کیونکہ ہمارا بنیادی مقصد ملک میں پائیدار استحکام لانا ہے۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ بعض افراد کو اپنے ہی سیاسی رہنماؤں پر مکمل بھروسہ کیوں نہیں ہے جبکہ حکومت نے ہر سطح پر تعاون کی غیر مشروط پیشکش کی۔
حکومتی کاوشوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارا دل ہمیشہ قومی دکھ سے اداس ہوتا تھا اور ہم کراچی یا دیگر دور دراز شہروں میں ہونے کے باوجود فوری طور پر پشاور پہنچ جاتے تھے لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے اکثر مناسب نمائندگی موجود نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم روایتی سیاسی باتوں سے بالاتر ہو کر خالصتاً ملکی مفاد میں تمام فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ طے شدہ پارلیمانی حکمت عملی کے مطابق سب سے پہلا بنیادی نکتہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی باضابطہ ملاقات کا تھا تاکہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ حکومت نے اس دوران تمام فریقین کو ان کے تمام آئینی اور قانونی حقوق کی مکمل ضمانت دی اور اس امر کو یقینی بنایا کہ قانون کی بالادستی برقرار رہے۔
وزیر داخلہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن اور واضح جنگ لڑی ہے اور اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پوری قوم اور تمام قومی ادارے ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر امن و امان کی بحالی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
مختلف امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں غیر ضروری الزام تراشی کی بجائے سنجیدہ اور متوازن مکالمے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کے حقیقی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ محسن نقوی نے پارلیمنٹ کے معزز اکان کو مکمل یقین دلایا کہ حکومت قومی سلامتی اور امن عامہ کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران مزید کہا کہ حکومت نے ہمیشہ سیاسی رواداری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کے سامنے بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان کی سرزمین کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ اور متعلقہ ادارے ملک سے انتہا پسندانہ رجحانات کے مکمل خاتمے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں اور قومی لائحہ عمل پر من و عن عملدرآمد جاری ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر داخلہ نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ قومی سلامتی کے نازک موڑ پر اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے حکومت کا ساتھ دیں تاکہ تمام اندرونی و بیرونی چالشوں سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔





اپنی رائے دیں