انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی پر مبنی نئی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ جاری کر دی گئی ہے جس میں پاکستان کے نوجوان بلے باز معاذ صداقت نے شاندار کارکردگی کی بدولت لمبی چھلانگ لگائی ہے۔
معاذ صداقت نے سری لنکا کے خلاف کھیلی گئی سیریز کے دوران اپنی عمدہ بلے بازی کے جوہر دکھاتے ہوئے رینکنگ میں ایک سو ستاسی درجے کی بڑی بہتری حاصل کی ہے اور اب وہ اپنے کیریئر کی بہترین پینتالیسویں پوزیشن پر براجمان ہو گئے ہیں۔
قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان کی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن تاحال برقرار ہے جبکہ اوپننگ بلے باز صائم ایوب چار درجے تنزلی کے بعد اب بیالیسویں نمبر پر چلے گئے ہیں مگر ان کی کارکردگی پر مبصرین کی نظر ہے۔
سابق کپتان بابر اعظم اور حسن نواز کو بھی رینکنگ میں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دونوں کھلاڑی تین تین درجے نیچے جانے کے بعد بالترتیب اڑتالیسویں اور باونویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنی پوزیشن بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔
بولنگ کے شعبے میں قومی ٹیم کے اسپنر ابرار احمد ایک درجہ تنزلی کے بعد چوتھی پوزیشن پر چلے گئے ہیں جبکہ تیز گیند باز سلمان مرزا نے نو درجے بہترین ترقی حاصل کر کے چودہویں پوزیشن سنبھال لی ہے جو ان کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آل راؤنڈرز کی جاری کردہ فہرست میں صائم ایوب نے اپنی دوسری پوزیشن بخوبی برقرار رکھی ہے جو کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ایک مستحکم اشارہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہ کھیل کے دونوں شعبوں میں مسلسل متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طرف سے جاری ہونے والی یہ تازہ ترین فہرست تمام کھلاڑیوں کی حالیہ بین الاقوامی مصروفیات اور کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے جس میں دنیا بھر کے نامور کرکٹرز کی نئی پوزیشنز کا تعین کیا گیا ہے۔
نوجوان کھلاڑی معاذ صداقت کی جانب سے دکھائی جانے والی اس غیر معمولی اور شاندار کارکردگی کو کھیلوں کے حلقوں میں بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں مزید بہتری لاتے ہوئے ملک کا نام روشن کریں گے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے حامیوں اور پرجوش شائقین کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی یہ پیشرفت انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ اس سے ٹیم کے مجموعی کمبینیشن اور بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی پوزیشن میں بہتری کے امکانات مزید روشن ہو جاتے ہیں۔
قومی کھلاڑی اس وقت آنے والے مقابلوں اور مختلف سیریز کی تیاریوں میں بھرپور طریقے سے مصروف عمل ہیں اور ان کی اولین کوشش یہی ہے کہ وہ اپنی انفرادی کارکردگی کو مزید نکھارتے ہوئے ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کریں۔
کرکٹ کے ماہرین کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کے درمیان رینکنگ میں یہ اوپر نیچے ہونے کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے جو کہ ٹیم میں صحت مند مسابقت کے عمل کو مزید تیز کرتا ہے اور کھلاڑیوں کو سخت محنت کرنے پر ابھارتا ہے۔
آئی سی سی کی یہ درجہ بندی کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافے کا سب سے بڑا باعث بنتی ہے بالخصوص جب کوئی نوجوان کھلاڑی اس طرح کی طویل چھلانگ لگا کر بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
حالیہ رینکنگ کے نفاذ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنی خامیوں پر قابو پاتے ہوئے آئندہ آنے والے میچوں میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کریں اور شائقین کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔





اپنی رائے دیں