مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:57
بریکنگ
پشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیخیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نگار جوہربینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغازمیرا بہترین کرکٹ دور ابھی آنا باقی ہے، نسیم شاہ کا عزمخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: سینیٹر علی ظفر کا حکومت سے رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہاسلام آباد کے ہفتہ وار بازار کل سے بند کرنے کا فیصلہ، باضابطہ نوٹیفکیشن جاریبالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاریبالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم جاریحوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی: ترجمانپی ٹی اے کی جانب سے بہتر کالنگ اور انٹرنیٹ سروس کی ہدایات جاریبجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئیعالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ برقرار رہےقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنی سالگرہ سادگی سے منا لیانیل کپور نے 39 سال بعد مشہور فلم مسٹر انڈیا کا اصل لباس پہن لیامعروف اداکارہ سکینہ خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیںرواں برس کا مون سون سیزن سات سال میں گرم ترین ریکارڈاینڈرائیڈ فون سے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن اور ری اسٹارٹ کرنا ممکنیمن کے حوثی گروپ کی مدینہ منورہ پر میزائل حملے کی سخت تردیدتمباکو نوشی مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھاتی ہے، نئی تحقیق
پاکستان

سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی گئی

وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی گئی

اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت کے روبرو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی ایک اہم درخواست پر سماعت کی گئی۔ اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے ججوں پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس معاملے کی باقاعدہ سماعت کی اور تمام فریقین کے دلائل سنے۔

عدالت کے معزز سربراہ چیف جسٹس امین الدین خان نے اس دو رکنی بنچ کی قیادت کی جبکہ کارروائی کے دوران دیگر عدلیہ کے ارکان بھی بینچ میں موجود تھے۔ اس قانونی کارروائی میں درخواست گزار کی جانب سے نامور سیاسی شخصیت اور وکیل شیر افضل مروت عدالت میں خود پیش ہوئے۔

دوسری جانب سے سہیل آفریدی کی نمائندگی کرتے ہوئے معروف قانون دان سید علی بخاری نے عدالت میں اپنی حاضری کو یقینی بنایا اور متعلقہ پیش رفت پر عدالتی سوالات کے جوابات دیے۔ سماعت کے دوران عدالت کے روبرو سیاسی صورتحال اور اس سے جڑے مختلف آئینی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد اصل قانونی نکتہ کو سمجھنا تھا۔

کارروائی کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگائے جانے کے بعد اب یہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ موجودہ سیاسی تبدیلیوں اور پیش رفت کے بعد اس پر مزید کارروائی کیسے جاری رکھی جا سکتی ہے۔

عدالت کا مؤقف تھا کہ چونکہ اس وقت متعلقہ شخصیت کے پاس وزیراعلیٰ کا منصب ہی باقی نہیں رہا اس لیے اس نوعیت کے کیس پر مزید سماعت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ معزز چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے اصل موضوع اب ختم ہو چکا ہے۔

درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ اور گورنر راج دراصل بالکل الگ اور متفرق معاملات ہیں۔ انہوں نے عدالت کے روبرو استدعا کی کہ ان الگ نوعیت کے معاملات کو بھی اس مقدمے کے ساتھ چیلنج کیا جانا چاہیے۔

شیر افضل مروت نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ اس کیس کی سماعت میں کچھ تاخیر یا مختصر التوا دیا جائے تاکہ وہ اپنے دلائل کو مزید بہتر انداز میں تیار کر سکیں۔ اس موقع پر بینچ میں شامل دوسرے معزز رکن جسٹس باقر نجفی نے بھی اس قانونی نکتہ پر اپنے ریمارکس دیے۔

جسٹس باقر نجفی نے نشاندہی کی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج بلاشبہ الگ مسائل ہیں لیکن اس وقت متعلقہ وزیراعلیٰ کے خلاف دائر کیا گیا کیس زیرِ بحث موجودہ معاملہ نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کی بنیاد بدل جانے کی وجہ سے اب سابقہ پوزیشن برقرار نہیں رہی۔

عدالت نے دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر آنے والے وقت میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے احکامات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت میں اگر متعلقہ شخصیت اپنے منصب پر بحال ہوتی ہے تو درخواست کی بحالی کی اجازت ہو گی۔

چیف جسٹس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس ممکنہ صورتحال میں درخواست گزار کے پاس یہ حق محفوظ ہو گا کہ وہ عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کر کے اس معاملے کو دوبارہ اٹھا سکے۔ اس قانونی رستے کی موجودگی کے بعد عدالت نے مزید کارروائی سے گریز کیا۔

آخر کار وفاقی آئینی عدالت نے شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کردہ اس نااہلی کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیے جانے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس اہم آئینی تنازعے کے پس منظر میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے جس پر سیاسی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملک کے سیاسی اور آئینی منظر نامے میں حالیہ مہینوں کے دوران کئی بڑے نشیب و فراہم دیکھنے میں آئے ہیں۔ مختلف عدالتوں میں اس نوعیت کے متعدد مقدمات زیرِ سماعت رہے ہیں جن میں آئینی اور قانونی تشریح طلب کی گئی ہے۔

ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات ملک کے سیاسی مستقبل اور آئینی اداروں کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے آنے والے ایسے فیصلے آئینی تاریخ میں ایک اہم حوالہ بن جاتے ہیں جن سے مستقبل کے مقدمات میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں