کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں جمعہ گوٹھ قبرستان کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں گیارہ سالہ بچہ بجلی کا کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت اذان کے نام سے ہوئی ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق بچہ اپنے گھر کے باہر موجود تھا کہ اس دوران اس کا ہاتھ اچانک بجلی کے پول سے ٹکرا گیا جس سے اسے شدید کرنٹ لگا۔ بجلی کا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
ایدھی حکام نے اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر بچے کی لاش کو اپنی تحویل میں لیا۔ بعد ازاں لاش کو قانونی کارروائی کے لیے ابراہیم حیدری تھانے منتقل کیا گیا، جہاں ضروری ضابطے مکمل کرنے کے بعد اسے ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔
متوفی بچے کے والد کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اذان ان کے پانچ بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی المناک موت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور علاقے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
والد کامران نے علاقے میں بجلی کے غیر قانونی کنڈوں کی بھرمار کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی تاروں کا جال اور کنڈوں کا غیر قانونی استعمال انسانی جانوں کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انتظامیہ نے علاقے میں بجلی کے غیر قانونی کنڈوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی اور ان کا خاتمہ نہ کیا تو اس طرح کے مزید افسوسناک واقعات پیش آنے کا خدشہ برقرار رہے گا جس سے مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔
شہر میں بجلی کے کھمبوں سے کرنٹ لگنے کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ کھمبوں میں کرنٹ کا لیکیج اور تاروں کی ناقص تنصیب بتائی جاتی ہے۔ شہری انتظامیہ سے بارہا ان مسائل کے حل کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
ابراہیم حیدری کے مکینوں نے بھی اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی فوری طور پر علاقے میں بجلی کے انفراسٹرکچر کا معائنہ کرے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
بچے کے والد نے قانونی کارروائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کے متلاشی ہیں، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ قانونی پیچیدگیوں اور ان کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں، جس کی وجہ سے وہ کافی دل برداشتہ ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور لواحقین کے بیانات کی روشنی میں قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ علاقے میں بجلی کے نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ محکمے کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
بچے کی اچانک موت نے پورے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اہل محلہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے کھمبوں کو محفوظ بنایا جائے اور غیر قانونی کنڈوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن شروع کیا جائے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے کرنٹ لگنے کے واقعات انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی تنصیبات کی دیکھ بھال نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں بجلی کی تاروں اور کھمبوں کی حالت زار پر بحث چھڑ گئی ہے۔ والدین نے اپنے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں بجلی کے نظام کو فوری طور پر درست کیا جائے۔





اپنی رائے دیں