امریکا کی وفاقی عدالت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے 13 اکتوبر کو عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ تینوں خبر رساں اداروں کے آئینی آزادیٔ اظہار اور قانونی کارروائی کے حق سے متعلق دعووں میں کامیابی کے امکانات ہیں۔
یہ تنازع 18 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انکے بقول مسلسل جعلی خبریں نشر کرنے کے سبب مذکورہ اداروں کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اس فیصلے کے تحت صحافیوں کے مستقل پریس پاس منسوخ کیے جانے تھے، جن کے ذریعے انہیں ہر مرتبہ پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے کی سہولت ملتی تھی۔
تینوں اداروں نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ حکومت انکی رپورٹنگ سے اختلاف کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پریس پاس کی منسوخی سے صحافیوں کے بنیادی حقوق اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے 24 ستمبر کو ابتدائی طور پر 14 دن کے لیے پابندی روکنے کا حکم دیا تھا اور متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔ 13 اکتوبر کو جج نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ابتدائی حکم امتناع جاری کردیا، جس سے متعلقہ صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں کام جاری رکھنے کا موقع مل گیا ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات پر خاص توجہ دی کہ صحافیوں کو پریس پاس منسوخ کرنے سے پہلے کوئی واضح اطلاع یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق حکومتی جانب سے بعد میں پیش کیے جانے والے قومی سلامتی کے دلائل اس اقدام کا خاطر خواہ جواز فراہم نہیں کرتے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہائٹ ہاؤس میں داخلہ صحافیوں کا مطلق حق نہیں بلکہ ایک خصوصی سہولت ہے، جس کے لیے صدر اور انتظامیہ ضابطے مقرر کرسکتے ہیں۔ سرکاری وکلا نے یہ بھی کہا کہ پابندی کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور غلط معلومات کی روک تھام تھا۔
میڈیا اداروں کے وکیل تھیوڈور باؤٹروس جونیئر نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جب صدر نے آزاد صحافت پر پابندی عائد کی تو انہوں نے قانونی طریقۂ کار اور پہلی ترمیم کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق اس پابندی سے ان کے موکلین، پہلی ترمیم اور عوام کو گہرا نقصان پہنچا۔
عدالت نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اس معاملے میں متاثر ہونے والے صحافیوں کی تعداد اہم ہے اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تینوں اداروں کے مجموعی طور پر 78 صحافی اس پابندی سے متاثر ہوسکتے تھے۔ پریس ایریا تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں صحافیوں کو سرکاری سرگرمیوں کا براہ راست مشاہدہ کرنے اور فوری خبریں فراہم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عبوری حکم ٹرمپ کے رپورٹنگ کی درستگی اور غیر جانب داری سے متعلق خدشات کو خود بخود بے بنیاد قرار نہیں دیتا اور نہ ہی حکومت کو خفیہ معلومات کے غیر قانونی انکشافات روکنے سے محروم کرتا ہے۔ یہ حکم محض مخصوص اداروں کے صحافیوں کے پریس پاس اور ان کی رسائی کو بحال کرنے تک محدود ہے۔
امریکہ میں یہ مقدمہ اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے جب موجودہ انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کے مابین تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حکومتی احکامات اور صحافیوں کے حقوق سے جڑے اس اہم قانونی معاملے پر آئندہ بھی عدالت میں سماعت کا سلسلہ جاری رہے گا اور فریقین کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی ذرائع ابلاغ کے درمیان رپورٹنگ، سرکاری معلومات تک رسائی اور صحافیوں کے کردار پر اختلافات مسلسل نمایاں ہورہے ہیں۔ تاہم عدالت کا موجودہ حکم صرف سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس اور وہائٹ ہاؤس تک رسائی سے متعلق ہے۔
یہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے حکومت کے تمام میڈیا سے متعلق اختیارات پر عمومی پابندی عائد ہوتی ہے۔ عدالت میں مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی اور انتظامیہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران فریقین کی جانب سے پیش کیے جانے والے دلائل میں آئینی ترامیم کے نفاذ اور ان کی تشریح پر تفصیلی بحث کی گئی۔ آنے والے دنوں میں اس اہم ترین مقدمے کے حتمی فیصلے کے تناظر میں مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔




اپنی رائے دیں