ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر حکمت اللہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں اور ان کا اطلاق 11 نومبر 2026 تک برقرار رہے گا۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا ہے۔
نئے احکامات کے تحت ضلع بھر میں کسی بھی قسم کے عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس، ریلیاں اور دھرنے دینے پر مکمل پابندی ہوگی۔ انتظامیہ کا مقصد شہر میں نظم و ضبط کو قائم رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔
اس پابندی کے دائرہ کار میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری بھی شامل ہے، جس پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ شاہراہوں پر خیمے نصب کرنے یا کسی بھی قسم کے عارضی ڈھانچے قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایسی تمام سرگرمیاں جن سے امن و امان میں خلل پڑنے یا شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہو، ان پر قانونی قدغن ہوگی۔ انتظامیہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کے قیام میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ شہر میں پرامن ماحول کو برقرار رکھنا تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ معمولات زندگی بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات اٹھاتی رہتی ہے۔ حالیہ پابندی کا مقصد بھی شہر میں کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔
مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کے مختلف حصوں میں گشت بڑھا رہے ہیں تاکہ ان احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ضلعی انتظامیہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور شہریوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ پاکستان میں انتظامیہ کی جانب سے ایک معمول کا قانونی عمل ہے جو اکثر حساس مواقع یا امن و امان کے خدشات کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عوامی جان و مال کا تحفظ ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری احکامات پر توجہ دیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کا مقصد صرف اور صرف عوامی مفاد اور تحفظ ہے۔
آئندہ ایک ماہ کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ اگر حالات معمول پر رہے تو پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں