برطانیہ میں ایک نوجوان لڑکی نے سوشل میڈیا انفلوئنسر بننے اور ڈیجیٹل دنیا میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے حیرت انگیز طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کر ڈالی ہے۔ اس انویسٹمنٹ پر جہاں انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شدید حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں اس موضوع پر بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آیا اس قسم کے ہنر کے لیے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس اکیس سالہ طالبہ کا نام ڈیسٹنی میک گوون ہے جنہوں نے ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن کے مضمون میں اپنی تین سالہ تعلیم کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ اس طویل تعلیمی عرصے اور کورس کے دوران ان کے اخراجات تقریباً تیس ہزار برطانوی پاؤنڈ تک پہنچ گئے۔
نوجوان ڈیسٹنی میک گوون کا اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ہی اپنی زندگی میں ایک کامیاب کاروباری شخصیت بننے کی خواہش رکھتی تھیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یونیورسٹی کی اس مخصوص ڈگری نے انہیں پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق اس کورس کے دوران طالب علموں کو جدید اسٹوڈیو آلات کو چلانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں اور اس شعبے کے تجربہ کار اور ماہر افراد سے روابط استوار کرنے کے سنہری مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ ڈیسٹنی کے مطابق یہ تمام سہولیات ان کے مستقبل کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوئی ہیں۔
تربیتی نصاب کے اہم حصوں کا ذکر کرتے ہوئے معلوم ہوا ہے کہ اس کورس میں طلبا کو ویڈیو ایڈیٹنگ کی باریکیاں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فالوورز کی تعداد میں اضافے کے طریقے، کاپی رائٹ قوانین کے تمام نکات اور برانڈز کے ساتھ اشتہاری معاہدے حاصل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
تعلیم کی تکمیل کے بعد ڈیسٹنی اب عملی میدان میں آ چکی ہیں اور وہ فیشن کے موضوعات پر دلکش ویڈیوز تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر مختلف مصنوعات فروخت کرنے کے لیے لائیو ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔
جب اس انوکھے واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے سامنے آنے لگے۔ انٹرنیٹ صارفین نے بنیادی طور پر یہ اہم سوال اٹھایا کہ جو ہنر آج کے دور میں انٹرنیٹ سے بالکل مفت بھی سیکھا جا سکتا ہے، اس پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔
صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور مواد کی تیاری کے بیشتر طریقے آن لائن پلیٹ فارمز پر باآسانی دستیاب ہیں اور اس کے لیے کسی مہنگی درسگاہ یا یونیورسٹی کی ڈگری کی قطعي کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
دوسری جانب ڈیسٹنی میک گوون ان تمام تنقیدوں اور سوالات کے باوجود اپنے اس فیصلے پر مکمل مطمئن دکھائی دیتی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ یونیورسٹی کی یہ سرمایہ کاری ان کے کیریئر کے لیے انتہائی نفع بخش ثابت ہوئی ہے۔
ماہرین کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن اب دنیا بھر میں ایک سنجیدہ اور باقاعدہ پیشہ بنتا جا رہا ہے جہاں نوجوان روایتی نوکریوں کے بجائے اس شعبے کو بطور کیریئر اپنانے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
برطانیہ سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، اور بڑی بڑی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے انہی ڈیجیٹل تخلیق کاروں سے رابطہ کرتی ہیں تاکہ ہدف تک آسانی سے پہنچا جا سکے۔
ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کا یہ کورس ان چند ابتدائی تعلیمی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے جو باضابطہ طور پر ڈیجیٹل کانٹینٹ اور سوشل میڈیا کی تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں تاکہ طلبا کو پیشہ ورانہ معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
اس حوالے سے تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کورسز وقت کی اہم ضرورت بنتے جا رہے ہیں، تاہم ان پر اٹھنے والے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا پر اس خبر کے آنے کے بعد سے بحث کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اسناد کتنی اہمیت کی حامل ہیں اور کتنی نہیں۔
بہر حال، ڈیسٹنی میک گوون نے جس عزم اور سرمایہ کاری کے ساتھ اس شعبے میں قدم رکھا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نئی نسل اب روایتی کیریئر کے علاوہ جدید ذرائع آمدنی کو اپنانے میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہے۔





اپنی رائے دیں