اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے چند روز قبل اپنی حکومت کی نئی قومی سلامتی کی ڈاکٹرائن جاری کی ہے۔ اس دستاویز میں ایک نقشہ بھی شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے خطے کے ممالک کو اتحادیوں اور حریفوں کے خانوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسرائیلی دفترِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ اس پالیسی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ، یمن اور لبنان میں فوجی کارروائیوں کے بعد اسرائیل نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے۔ نئی ڈاکٹرائن میں محض دفاعی اقدامات کے بجائے پیشگی حملوں اور روک تھام کو ترجیح دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی کا مقصد اندرونی دفاع کو مضبوط بنانا، اسلحہ کی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کرنا اور جدید ٹیکنالوجیز میں اپنی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق اس حکمت عملی سے خطے میں نئے اتحاد قائم کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس نقشے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو 'ہیگزاگون الائنس' کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جس میں یونان، ایتھوپیا اور انڈیا کے کچھ حصوں کو بھی شامل دکھایا گیا ہے۔ تاہم اس میں مصر اور اردن کو اسرائیلی اتحادیوں کی فہرست سے باہر رکھا گیا ہے۔
نقشے کے مطابق مصر کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ 'سنی ڈائمنڈ الائنس' کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اتحاد کے دوست ممالک میں سوڈان، ارتریا، یمن، اردن، شام، قطر، بحرین اور کویت شامل ہیں۔ آذربائیجان کو دونوں اتحادوں کے لیے دوستانہ ملک قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے اس دستاویز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سابق وزیر اعظم یائیر لپید نے اسے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حقیقی حکمت عملی نہیں بلکہ 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی عسکری قیادت نے سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ہر ممکن فوجی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق 'مکہ اتحاد' کے رکن ممالک سعودی عرب پر کسی بھی حملے کا اجتماعی جواب دینے کے پابند ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے مقدس مقامات کی حفاظت اور وہاں کے عوام کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ اگر یمنی حکومت کی جانب سے باضابطہ فوجی معاونت کی درخواست موصول ہوئی تو اسلام آباد اس کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے سعودی عرب پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بزالل سموترچ نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یونان کے ساتھ اتحاد کو پاکستان اور ترکی کے خلاف مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشرقی بحیرہ روم میں سٹریٹیجک توازن برقرار رکھنے پر زور دیا۔
سموترچ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو محمد بن سلمان کے ساتھ معاملات میں محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو مراعات دینے سے قبل بدلے میں ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے انتخابات سے عین قبل یہ نقشہ جاری کرنا سیاسی مقاصد کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس پالیسی پر اسرائیل کے اندر اور باہر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں امن و استحکام کے گرد گھومتا رہا ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے برادر اسلامی ممالک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔




اپنی رائے دیں