لاہور کے نواحی علاقے قصور سرکل میں لیسکو کی چیکنگ ٹیم پر مسلح افراد کی جانب سے تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ واقعہ نیاز نگر سب ڈویژن کے علاقے کورٹ مولوی عبدالقادر میں اس وقت پیش آیا جب ٹیم بجلی چوری کے خلاف کارروائی کر رہی تھی۔
لیسکو ترجمان کے مطابق ٹیم نے دورانِ چیکنگ ایک صارف کے گھر پر بوگس میٹر کے ذریعے بجلی چوری کا انکشاف کیا۔ میٹر کی ریڈنگ اور نمبر میں گزشتہ ریکارڈ کے ساتھ واضح فرق پایا گیا، جس سے چوری کی تصدیق ہو رہی تھی۔
جب لیسکو کے اے ایل ایم بلال اور فیاض نے اس غیر قانونی عمل کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو صارف اسد حسین نے اپنے پانچ مسلح ساتھیوں کے ہمراہ ٹیم پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے اہلکاروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا۔
حملہ آوروں نے نہ صرف لیسکو اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان سے موبائل فون بھی چھین لیے۔ اس دوران ملزمان کی جانب سے اہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں تاکہ انہیں سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکا جا سکے۔
واقعے کے فوری بعد لیسکو انتظامیہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس نے لیسکو اہلکاروں کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر محمد رمضان بٹ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کام کرنے والے اہلکاروں کو ہراساں کرنا اور ان پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سی ای او لیسکو نے واضح کیا کہ سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم بلا امتیاز جاری رہے گی۔
محکمہ بجلی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے اہلکاروں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور بجلی چوری کے خلاف جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ لیسکو کی جانب سے بجلی چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے جس کے دوران متعدد علاقوں میں بوگس میٹرز اور کنڈیاں پکڑی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق بجلی چوری قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے تدارک کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہی واحد راستہ ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کی تلاش جاری ہے اور جلد ہی انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ عدالت میں مضبوط کیس پیش کیا جا سکے۔
علاقہ مکینوں نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین پر تشدد کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔
لیسکو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے ملازمین کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور ان پر حملہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔





اپنی رائے دیں