فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی سہولیات کے فقدان کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک نے جنم لیا ہے، جس کے باعث پیرس سمیت ملک کے درجنوں شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ احتجاجی سلسلہ گزشتہ ہفتے سے شروع ہوا جو اب شدت اختیار کر چکا ہے۔
اس تحریک کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے شمالی مضافاتی علاقوں کے سرکاری ہائی اسکولوں سے ہوا تھا، جہاں طلبہ نے اساتذہ کی کمی، غیر حاضری اور اسکولوں کی ناقص صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ طلبہ تحریک ایک وسیع عوامی احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عدم مساوات نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوام سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور عوامی خدمات کے گرتے ہوئے معیار پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
دارالحکومت پیرس میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، خاص طور پر شانزے لیزے اور آرک ڈی ٹریومف کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حکام نے ان تاریخی مقامات کو مظاہرین کے لیے مختص کیے گئے دو سرکاری احتجاجی راستوں سے الگ رکھا ہے۔
احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ کچھ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
مارسیے سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور عوامی نقل و حمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔
احتجاج میں شریک 19 سالہ طالبہ لولا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کے اخراجات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہتر حالاتِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں، تاہم ان مطالبات کے جواب میں ہمیں تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لولا نے مزید کہا کہ طلبہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے اور بہتر تعلیمی ماحول کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوام کی جانب سے سماجی تحفظ کے روایتی نظام کی زبوں حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کو اپنی صدارتی مدت کے آخری حصے میں سنگین سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں سیاسی تقسیم اور بکھرا ہوا منظرنامہ حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے، جس سے انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے قومی قرضوں پر قابو پانے کی کوششیں تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ اس معاشی صورتحال کے باعث فرانسیسی بانڈز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور حکومتی قرض لینے کی لاگت گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
فرانس کے وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے مظاہروں کے دوران ممکنہ شدید بدامنی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت 'لا فرانس انسومیز' پر احتجاج کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جسے اپوزیشن نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر عوام کے معاشی مطالبات پر توجہ نہ دی تو یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر احتجاجی گروپس کی جانب سے مزید مظاہروں کی اپیلیں کی جا رہی ہیں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
فرانسیسی حکومت اس وقت ایک دوہرے دباؤ میں ہے، جہاں ایک طرف اسے معاشی بحالی کے لیے سخت اقدامات کرنے ہیں، تو دوسری طرف عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مستقبل قریب میں مزید مظاہروں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں