قاہرہ سے موصول ہونے والی بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی موجودہ صدارتی مدت کے حتمی اور واضح خاتمے کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آئین کے مطابق اپنے مقررہ وقت پر اپنے اعلیٰ منصب سے مکمل طور پر سبکدوش ہو جائیں گے۔ اس اہم ترین اعلان کے بعد ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تمام تر زیرِ گردش قیاس آرائیاں بھی اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہیں اور صورتحال بالکل صاف ہو گئی ہے۔
صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کی غیر مبہم انداز میں تصدیق کی ہے کہ ان کی موجودہ صدارتی مدت سنہ دو ہزار تیس میں اپنی طبعی اور آئینی مدت مکمل کر کے ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے انتہائی دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کے اس عہدے سے الگ ہونے کا معاملہ پہلے ہی طے شدہ ہے اور اس پر اب مزید کسی بھی قسم کی بحث یا چہ مگوئی کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے۔
مصر کے موجودہ اور مروجہ آئین کے تحت ملکی نظام حکومت چلایا جا رہا ہے اور صدر السیسی نے اس بات پر بھی گہری روشنی ڈالی کہ اس آئین میں کسی بھی قسم کی کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کو پرزور طریقے سے دہرایا کہ وہ ملک کے قانون اور آئین کی مکمل، غیر مشروط اور احسن طریقے سے پاسداری جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی طویل عرصے سے ملک کے اہم ترین امورِ حکومت سنبھال رہے ہیں اور ان کے اس تازہ ترین بیان کو ملکی اور غیر ملکی سیاسی حلقوں میں ایک بہت ہی اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے اس دوٹوک بیان سے ان تمام افواہوں اور خدشات کا قطعی خاتمہ ہو گیا ہے جو صدارتی مدت میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی توسیع سے متعلق مسلسل پھیلائے جا رہے تھے۔
مصر کی طویل سیاسی تاریخ میں صدارتی مدت کے پُراسرار، متنازع یا غیر یقینی ادوار کے برعکس، موجودہ سربراہ مملکت کا یہ واضح اعلان ملکی جمہوریت اور آئینی تسلسل کے لیے ایک انتہائی مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔ ملک کے عام شہریوں، دانشوروں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اس صدارتی فیصلے پر ملا جلا لیکن مجموعی طور پر ایک پُرامید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی مصر کے صدر کے اس اہم بیان کو انتہائی سنجیدگی سے مانا جا رہا ہے کیونکہ خطے کے امور میں مصر ایک انتہائی کلیدی، موثر اور بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا بھر کے تمام بڑے خبر رساں اداروں اور میڈیا ہاؤسز نے اس صدارتی اعلان کو نمایاں ترین جگہ دی ہے اور اس کے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصر نے حالیہ برسوں کے دوران کئی بڑے معاشی، علاقائی اور سیکیورٹی چیلنجز کا انتہائی پامردی سے مقابلہ کیا ہے اور اب ان کے اس بیان کے بعد ملک میں ایک نئے اور پُرعزم دور کے آغاز کی باقاعدہ تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ سنہ دو ہزار تیس تک کے اس طویل عرصے میں ملک کی مجموعی معاشی اور سیاسی سمت کو مزید مستحکم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
مصر کا متفقہ آئین ملک کے تمام اہم اداروں اور سیاسی عمل کو بہترین طریقے سے ریگولیٹ کرتا ہے اور صدر مملکت کی طرف سے اس کی مکمل حرمت برقرار رکھنے کا اعلان ملک میں قانون کی حقیقی حکمرانی کا مظہر ہے۔ نامور سیاسی تجزیہ کاروں کا اس بارے میں یہی ماننا ہے کہ اس اعلان سے ملک کے اندرونی استحکام کو مزید تقویت ملے گی اور غیر یقینی کی فضا کا ہمیشہ کے لیے قلع قمع ہو جائے گا۔
آنے والے برسوں میں مصر کی ملکی سیاست کس نئے رخ پر مڑے گی، اس بات کا دارومدار اب مکمل طور پر اس امر پر ہے کہ موجودہ حکومت کس طرح اپنے طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی ایجنڈے کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے۔ صدر السیسی کے اس جامع بیان نے ملک کی تمام فعال سیاسی قوتوں کو ایک بہت ہی واضح پیغام دے دیا ہے کہ ریاست میں قانون اور آئین ہی سب سے زیادہ مقدم ہے۔
مشرق وسطیٰ کے نازک حالات کے تناظر میں مصر کا سیاسی استحکام پورے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے، اس لیے قاہرہ سے آنے والی یہ خبر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مبصرین کے مطابق صدر کا یہ اعلان بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کی جمہوری ساکھ کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال رہے گا۔
مصر کی پارلیمنٹ اور دیگر آئینی ادارے بھی ملک میں قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں، اور صدر کے اس اعلان نے ان اداروں کے کردار کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کا سلسلہ بھی تیز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ منتقلی کا عمل پُرامن ہو۔
حکومت کی طرف سے معاشی اصلاحات کے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ان کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے سیاسی استحکام کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر السیسی کے اس دوٹوک موقف سے کاروباری طبقے اور عوام کو یہ یقین دہانی ہو گئی ہے کہ ملک آئینی راستے پر گامزن رہے گا اور غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ملکی تاریخ میں اس طرح کے واضح اعلانات شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں جہاں کوئی سربراہ مملکت خود اپنی مدت پوری کرنے اور اقتدار چھوڑنے کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے۔ اس قدم کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور اسے مصر میں جمہوری روایات کے استحکام کی جانب ایک اور سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں