وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی سلامتی ہر چیز سے بڑھ کر مقدم ہے اور کسی بھی صورتحال میں ریاست کو سیاست کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا کیونکہ پائیدار امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود ماضی میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کا ہدف بنتی رہی ہے، جس کی وجہ سے ان سے یہ توقع کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے توقع ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام کے قائد اس حساس اور اہم قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے وقت ریاستی کوششوں اور سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کو مدنظر رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں خطوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سیاسی قیادت کے عملی عزم کا ضرور جائزہ لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جنگ محض چند بیانات یا سیاسی دعوؤں کا محدود معاملہ نہیں بلکہ یہ پوری ریاست اور قوم کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی نوعیت کے اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ مؤقف پایا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ صوبائی اسمبلی کے اندر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور تمام اہم فیصلوں کے معاملے پر اپوزیشن کو ہمیشہ مکمل اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی واضح پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ اجتماعی مشاورت کے ذریعے بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر حکومت کے اس جمہوری اور مشاورتی طرزِ عمل کا برملا اور واضح اعتراف کر چکے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں کی گئی حالیہ تقریر بھی اس امر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے کی سنجیدہ سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی آئینی ذمہ داری اور کردار کو بخوبی تسلیم کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر تمام پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ مؤقف کی حامل ہیں۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو تمام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی روایت موجود ہے۔
بیان میں پاک فوج اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا صدمہ، والدین کی دائمی جدائی اور ادھورے خوابوں کی ایک طویل دردناک داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کوئی بھی غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر کرنا قومی مفاد کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پائیدار امن کے قیام کے بغیر ملک میں ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور معاشی استحکام کے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنا کسی طور ممکن نہیں۔
خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں حکومت کے خاتمے کے نتائج ہوں یا بلوچستان حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، حقائق کو ہی پیمانہ بنایا جائے۔
انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں تمام سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں۔




اپنی رائے دیں