مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:18
بریکنگ
یمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک، بالائی حصوں میں بارش کا امکانسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات 2026-27 کے لیے حتمی امیدواروں کی فہرست جاریجمہوری نظام کو ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے، فیصل واوڈا کا بیانخیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نگار جوہربینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغازمیرا بہترین کرکٹ دور ابھی آنا باقی ہے، نسیم شاہ کا عزمخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: سینیٹر علی ظفر کا حکومت سے رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہاسلام آباد کے ہفتہ وار بازار کل سے بند کرنے کا فیصلہ، باضابطہ نوٹیفکیشن جاریبالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاریبالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم جاریحوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی: ترجمانپی ٹی اے کی جانب سے بہتر کالنگ اور انٹرنیٹ سروس کی ہدایات جاریبجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئیعالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ برقرار رہےقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنی سالگرہ سادگی سے منا لیانیل کپور نے 39 سال بعد مشہور فلم مسٹر انڈیا کا اصل لباس پہن لیامعروف اداکارہ سکینہ خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں
دنیا

روس: سائبیریا میں لیب ورکر کی پراسرار موت، عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات جاری

سائبیریا کے تحقیقی مرکز میں کام کرنے والی 28 سالہ خاتون کی موت کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی، عالمی ادارہ صحت نے تشویش کا اظہار کر دیا۔

روس: سائبیریا میں لیب ورکر کی پراسرار موت، عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات جاری

روس کے علاقے سائبیریا میں واقع ایک تحقیقی مرکز میں کام کرنے والی ایک خاتون لیب ورکر کی پراسرار موت نے طبی ماہرین اور عالمی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے تاحال موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور روسی صحت کے نگران اداروں نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی متعدی بیماری یا طاعون کے پھیلاؤ کے امکانات کو فی الحال مسترد کیا گیا ہے۔ خاتون کی موت کے بعد سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہلاک ہونے والی لیب ورکر میں نمونیا کی علامات دیکھی گئی تھیں، لیکن اس نمونیا کی اصل وجہ کیا تھی، اس کا پتہ لگانے کے لیے سائنسی شواہد ناکافی ہیں۔ ادارے نے اس غیر یقینی صورتحال کو بنیادی تشویش قرار دیا ہے۔

روسی طبی حکام کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متوفی خاتون کے ساتھ رابطے میں رہنے والے دیگر افراد کی صحت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اب تک کسی بھی دوسرے فرد میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہی ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی خطرے کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق، 28 سالہ لیب ورکر اکتوبر کی 2 تاریخ کو بیمار ہوئی تھیں اور کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کے بعد روسی حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا تھا۔

قرنطینہ کے اس اقدام کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی تھیں، جس سے عوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر انحصار کریں۔

سائبیریا کا یہ تحقیقی مرکز طاعون اور دیگر متعدی امراض کے خلاف تحقیق کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے ماہرین انتہائی احتیاطی ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس واقعے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور لیب ورکر کے نمونوں کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ حتمی تشخیص کے بعد ہی اس معاملے کا مکمل پس منظر واضح ہو سکے گا۔

فی الحال، کسی بھی قسم کی وبائی صورتحال کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے اور نہ ہی کسی اور شخص میں ایسی علامات دیکھی گئی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کے ماحول میں ہونے والی ایسی اموات کی مکمل تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔

روس کے صحت کے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحقیقی مرکز میں کام کرنے والے تمام افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ قرنطینہ میں موجود افراد کی طبی جانچ کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی خطرے کو بروقت بھانپا جا سکے۔

عالمی برادری بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ لیبارٹریوں میں کام کرنے والے عملے کی صحت اور حفاظت ایک حساس معاملہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ تمام تر حقائق سامنے آنے تک اپنی نگرانی جاری رکھے گا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر لیبارٹریوں میں حفاظتی پروٹوکولز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ روسی حکام کی جانب سے جلد ہی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں موت کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں