مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:57
تازہ
ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویشعالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحقکراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکانفیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازتاسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظورپاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروتنو مئی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمد
کھیل

اسپین فٹبال فیڈریشن کا فیفا کی سزا کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کا فیصلہ

اسپینش فیڈریشن نے مصر کے خلاف میچ میں نعرے بازی پر عائد جرمانے اور پابندی کے خلاف سی اے ایس میں اپیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

اسپین فٹبال فیڈریشن نے عالمی فٹبال نگراں ادارے فیفا کی جانب سے عائد کردہ مالی جرمانے اور اسٹیڈیم کے مخصوص حصوں کو بند رکھنے کی سزا کو چیلنج کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ فیڈریشن کی جانب سے یہ قانونی اقدام بین الاقوامی فٹبال کے حلقوں میں جاری اس تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو ایک دوستانہ میچ کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی وجہ سے پیدا ہوا۔

یہ پورا معاملہ رواں برس مارچ کے مہینے میں پیش آیا جب بارسلونا کے قریب واقع آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں اسپین اور مصر کی قومی ٹیموں کے درمیان ایک دوستانہ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ہونے والا یہ اہم میچ بغیر کسی گول کے برابر پر ختم ہوا لیکن شائقین کی طرف سے لگائے جانے والے نعروں نے اس میچ کو شدید متنازع بنا دیا۔

میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود بعض شائقین نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی جس کے بعد اسٹیڈیم انتظامیہ نے فوری طور پر تنبیہی اقدامات جاری کیے اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ کھیل کے اس ماحول میں اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے تمام کھیلوں کے حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی اور اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا۔

اسپین کے مسلمان فٹبالر لامین یامل نے بھی اس پورے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے شائقین کے اس امتیازی رویے کو قطعی طور پر ناقابل برداشت قرار دیا۔ کھلاڑی کی طرف سے جاری کردہ اس بیان کے بعد یہ معاملہ مزید حساس شکل اختیار کرگیا اور کھیلوں کی انتظامیہ پر بھی سخت کارروائی کے لیے دباؤ بڑھتا چلا گیا تاکہ کھیلوں کے میدانوں میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیا اور اسپینش فٹبال فیڈریشن کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تفیصلات طلب کیں۔ عالمی فٹبال باڈی نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فیڈریشن پر بیس ہزار امریکی ڈالر کا مالی جرمانہ عائد کیا اور ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر کیا کہ آئندہ ہونے والے ہوم فرینڈلی میچ میں اسٹیڈیم کی کم از کم پندرہ فیصد نشستیں شائقین کے لیے بند رکھی جائیں گی۔

فیفا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مؤقف میں واضح کیا گیا کہ میدان یا اسٹیڈیم کے اندر کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک یا لفظی توہین صرف مخصوص الفاظ یا جملوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے پس منظر اور پورے سیاق و سباق کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ فیفا کے قوانین کے مطابق کھیل کے میدانوں میں ہر قسم کے تعصب کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے تاکہ تمام کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے یکساں اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

دوسری جانب اسپینش فٹبال فیڈریشن کا اپنا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس واقعے کے بعد فیڈریشن نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے تمام متعلقہ حکام اور اداروں کے ساتھ بھرپور اور مخلصانہ تعاون کیا۔ فیڈریشن کے ذمہ دار حکام کا کہنا ہے کہ عائد کردہ سزا بہت زیادہ سخت ہے جبکہ اس حوالے سے نعروں کی روک تھام اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے پہلے ہی مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے جا چکے تھے۔

ان تمام دلائل اور توضیحات کے باوجود جب فیفا کی اپیل کمیٹی نے اسپینش فیڈریشن کی نظرثانی کی درخواست کو مسترد کر دیا تو فیڈریشن کے پاس عدالتی فورم سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس صورتحال کے پیش نظر اسپینش فیڈریشن نے اب کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت یعنی کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹس سے رجوع کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے تاکہ اس فیصلے کا قانونی جائزہ لیا جا سکے اور عائد کردہ سزا میں مناسب تخفیف کروائی جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق نامور خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد اس مقدمے کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے قوانین کے ماہرین اس کیس کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ مستقبل کے لیے کھیلوں میں نظم و ضبط اور مساوات کے حوالے سے اہم نظیر بن سکتا ہے۔

کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت اب اس پورے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کرے گی اور دونوں فریقین یعنی فیفا اور اسپینش فٹبال فیڈریشن کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد حتمی فیصلہ صادر کرے گی۔ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف اسپینش فیڈریشن کے انتظامی امور کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں عالمی فٹبال میں نسلی اور امتیازی نعرے بازی کے خلاف فیصلوں کے لیے بھی ایک بڑی قانونی حیثیت کا حامل ہوگا۔

فٹبال کے شائقین اور مبصرین اس بات کے منتظر ہیں کہ عالمی ثالثی عدالت اس تنازع پر کیا فیصلہ سناتی ہے کیونکہ اس سے کھیلوں کے میدانوں میں شائقین کے رویے کو ضابطے میں لانے کے لیے نئے اصول طے ہوں گے۔ اسپین کی فیڈریشن کو امید ہے کہ ان کی اپیل پر مثبت غور کیا جائے گا جبکہ فیفا اپنے تادیبی فیصلوں پر قائم رہتے ہوئے کھیل کے وقار کو بلند رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔

اس پورے قضیے نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں نظم و ضبط اور باہمی احترام کو برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہوگا اور اس سے فٹبال کے کھیل کو مزید شفاف اور تعصب سے پاک بنانے میں مدد ملے گی۔

آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوگا اور کھیلوں کی دنیا کی نظریں اس فیصلے پر مرکوز ہوں گی جو کہ فٹبال کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ فیڈریشن اور فیفا کے درمیان ہونے والی یہ قانونی جنگ کھیل کے دائرہ کار میں ضابطے کی اہمیت کو اجاجر کرنے کا ایک نیا باب ثابت ہوگی۔

کھیل کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں