پشاور میں تعلیمی ادارے کی عمارت کا افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید سوگ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ اس ناگہانی واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ہر آنکھ اشک بار دکھائی دیتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین اس کڑے وقت میں اپنے پیاروں کی جدائی اور صدمے سے نڈھال ہیں۔ حادثے کے بعد سے فضا سوگوار ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد غمزدہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے پہنچ رہی ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق یہ دلخراش واقعہ صبح کے وقت عین اس وقت پیش آیا جب روزمرہ کی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے والی تھیں۔ حادثے کا وقت صبح سات بج کر پینتالیس منٹ بتایا گیا ہے جب اچانک عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا۔ اس اچانک صدمے نے سکول میں موجود بچوں اور اساتذہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اردگرد کے رہائشی اور مقامی افراد فوراً جائے وقوعہ کی طرف دوڑ پڑے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
مقامی شہریوں نے کمال ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے میں دبے افراد کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ محلے کے مکین چند منٹوں کے اندر اندر حادثے کی جگہ پر پہنچ گئے تھے۔ لوگوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ملبے کو ہٹایا اور متاثرین کو ریسکیو کرنے کی ابتدائی کوششیں شروع کیں۔ اس دوران شہریوں نے انتہائی جرأت کا مظاہرہ کیا اور متعدد بچوں کو ملبے سے باحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئے۔
ابتدائی طور پر شہریوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بعد سرکاری امدادی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اداروں، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔ جائے وقوعہ پر ایمبولینسز اور پیرامیڈیکل عملہ بھی موجود رہا تاکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا سکےلارڈز کے مطابق امدادی اور نکاسی کا کام مکمل جانفشانی کے ساتھ جاری رکھا گیا۔
متاثرہ بچوں کے والدین اور لواحقین نے اس المناک واقعے پر شدید دکھ، غصے اور غم کا اظہار کیا ہے۔ والدین نے متعلقہ سکول انتظامیہ اور ذمہ دار حکام پر واضح طور پر غفلت کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کی طرف سے ذرا سی بھی توجہ دی جاتی تو اس قیمتی جانی نقصان سے بخوبی بچا جا سکتا تھا۔ غم سے نڈھال خاندانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غفلت ناقابلِ برداشت ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے جو اس بات کا تعین کرے کہ حادثہ کن وجوہات کی بنا پر پیش آیا۔ والدین کا مؤقف ہے کہ اس سانحے کے تمام ذمہ داران کا قانون کے مطابق تعین کیا جانا چاہیے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
متاثرہ افراد کے مطابق سکول کی یہ عمارت کئی دہائیوں پرانی تھی اور اس کی حالت زار کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ والدین نے الزام لگایا کہ عمارت کی تعمیرِ نو، مرمت یا اس کی مناسب دیکھ بھال کے معاملے پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ اتنی پرانی عمارت میں درس و تدریس کا جاری رہنا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانی اور خستہ حال عمارتوں کے بارے میں متعلقہ اداروں کی غفلت نے آج معصوم جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پشاور کے اس تعلیمی ادارے کی عمارت کا یہ حادثہ ایک چشم کشا حقیقت ہے۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی سکیورٹی اور فٹنس کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف ایک سکول نہیں بلکہ شہر بھر میں قائم پرانے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ لیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
والدین نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مانیٹرنگ کے لیے سخت ترین لائحہ عمل بنائے۔ سکولوں کی رجسٹریشن، تجدید اور عمارتوں کے اسٹرکچرل آڈٹ کا نظام انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایسے حادثات جنم لیتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن اور عمارتوں کی فٹنس کے عمل کو باقاعدہ اور شفاف بنایا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکنہ فورم سے رجوع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک حادثے کے اصل حقائق سامنے نہیں آ جاتے۔ قانون کے مطابق کارروائی ہی ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہے۔
انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے حادثے کے بعد شہر میں حفاظتی اقدامات اور تعلیمی اداروں کے معائنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں بچوں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔ تحقیقاتی رپورٹس کی روشنی میں آئندہ کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔
اس وقت پشاور میں اس حادثے کی وجہ سے غم کی لہر دوڑی ہوئی ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
متاثرہ علاقوں میں حادثے کے اثرات تاحال محسوس کیے جا رہے ہیں اور شہری اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے کر آئندہ کے لیے حفاظتی تدابیر سخت کی جائیں گی تاکہ ایسے سانحات دوبارہ رونما نہ ہوں۔





اپنی رائے دیں