قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد عباس نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف آنے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کی تیاریوں کا سلسلہ نہایت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پریکٹس میچز کے انعقاد سے تمام کھلاڑیوں کو مطلوبہ میچ پریکٹس حاصل کرنے کا بہترین موقع میسر آیا ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی موجودہ فارم کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تاحال پاکستان کی سرزمین پر کسی ٹیسٹ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام نہیں دیا، اور وہ سری لنکا کے خلاف اس سنگ میل کو عبور کرنے کے خواہشمند ہیں۔
محمد عباس نے ٹیم کے نوجوان فاسٹ باؤلر رضا اللہ کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکھنے کا زبردست شوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نوجوان کھلاڑی آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔
فاسٹ باؤلر کا کہنا تھا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں اور اس سے کبھی غفلت نہیں برتتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ریجنل اور ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے ساتھ ساتھ انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سال بھر میں لگ بھگ بیس سے پچیس فرسٹ کلاس میچوں میں شرکت کرتے ہیں۔ اس مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے انہیں ریڈ بال کرکٹ یعنی ٹیسٹ فارمیٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔
مخالف ٹیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کوئی بھی فریق آسان حریف شمار نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حریف ٹیم کے ساتھ ساتھ پچ اور مجموعی حالات کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی بنائی جائے۔
ٹیم میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سکواڈ میں نئی جنریشن کی شمولیت خوش آئند اقدام ہے۔ ان کے مطابق ان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور قومی ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کا سنہری موقع ملا ہے۔
یہ نوجوان کھلاڑی انڈر 19 اور ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر سلیکٹ ہو کر قومی ٹیم میں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال میچ کے لیے تیار کی گئی وکٹ کا باضابطہ جائزہ نہیں لیا گیا۔
راولپنڈی کی پچ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ گراؤنڈ عام طور پر تیز گیند بازوں کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر میچ کی پچ اور صورتحال مختلف ہوتی ہے، اس لیے حالات کے مطابق ہی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 9 نومبر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔





اپنی رائے دیں