ضلع سوات میں پشاور سے سیر و تفریح کی غرض سے آنے والی ایک خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس گھناؤنے فعل میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ بحرین سے سیر و تفریح کے بعد واپس جا رہی تھی۔ اینگرو ڈھیری چوک کے قریب تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں تفتیش اور چھان بین کے بہانے روکا۔
متاثرہ خاتون کی جانب سے تھانہ رحیم آباد میں درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، ملزمان نے انہیں اور ان کے شوہر کو روکا اور پھر خاتون کو بائی پاس روڈ پر واقع ایک ہوٹل کے کمرے میں لے گئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہوٹل کے کمرے میں ملزمان نے خاتون کو باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے اس دوران خاتون کو دھمکیاں بھی دیں کہ اگر انہوں نے کسی کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے اس کا فوری نوٹس لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات جاری کیے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈی پی او کے احکامات پر ایس ایچ او تھانہ رحیم آباد زاہد اللہ خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری کارروائی کا آغاز کیا۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا۔
پولیس کی جانب سے کی گئی کامیاب کارروائی کے نتیجے میں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت واحد محمود ولد بادشاہ محمد، جس کا تعلق الہ ڈھنڈ بٹ خیلہ سے ہے، اور محمد غضنفر ولد محمد صفدر، جس کا تعلق چمکنی پشاور سے ہے، کے طور پر ہوئی ہے۔
ترجمان سوات پولیس نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تھانہ رحیم آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کسی بھی سرکاری اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان پولیس کے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم انہوں نے اپنی وردی اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔
سوات پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہیں اور مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تفتیش کو میرٹ پر مکمل کیا جائے گا۔



اپنی رائے دیں