بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں چاکلیٹ کے معمولی تنازع پر ایک 12 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر اپنے پڑوسی 4 سالہ معصوم بچے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چاکلیٹ کے معاملے پر بچے کی والدہ نے لڑکی کو کسی بات پر ڈانٹ دیا، جس پر وہ شدید طیش میں آ گئی۔
پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ لڑکی نے اپنی ناراضی کا بدلہ لینے کے لیے ایک انتہائی خطرناک منصوبہ تیار کیا اور موقع ملتے ہی بچے کو نشانہ بنایا۔
ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق، ملزمہ لڑکی نے بچے کو گھر کی چھت پر لے جا کر وہاں موجود پانی کی ٹن کی میں دھکا دے دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے صرف بچے کو ٹن کی میں دھکا دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے ٹن کی کے اوپر پتھر کی ایک بھاری سلیب بھی رکھ دی۔
پتھر کی سلیب رکھنے کے باعث بچہ ٹن کی کے اندر ہی محصور ہو گیا اور دم گھٹنے کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا اور ضروری کارروائی کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق مقتول بچہ اور ملزمہ لڑکی آپس میں پڑوسی تھے، جس کی وجہ سے ان کا آپس میں اکثر ملنا جلنا رہتا تھا۔
پولیس کی جانب سے کی گئی ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ملزمہ لڑکی نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور واقعے کی تفصیلات بھی بتائی ہیں۔
لڑکی نے اعتراف کیا کہ وہ بچے کی والدہ کی جانب سے ڈانٹ پڑنے پر شدید غصے میں تھی اور اسی انتقامی جذبے کے تحت اس نے یہ قدم اٹھایا۔
ملزمہ کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے قانونی ضابطے کے تحت چائلڈ آبزرویشن ہوم منتقل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔
عدالت نے ملزمہ کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اصلاحی مرکز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اس واقعے نے مقامی علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ اتنی چھوٹی عمر کی لڑکی نے اس قدر سنگین قدم کیسے اٹھا لیا۔
پولیس نے اس معاملے میں مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ کیس کو عدالت میں مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔



اپنی رائے دیں