قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم اے سی سی مینز انڈر 19 ایشیا کپ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور جمعہ کو اپنے پہلے میچ میں متحدہ عرب امارات کے مد مقابل ہوگی۔
یہ آٹھ ٹیموں پر مشتمل پچاس اوورز کا ٹورنامنٹ عمان میں کھیلا جا رہا ہے جس میں تمام ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کے لیے زور لگا رہی ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ سال دبئی میں کھیلے گئے فائنل میں بھارت کو 191 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر یہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اور اس بار بھی ٹیم فاتحانہ عزم کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
قومی اسکواڈ مقامی موسم اور پچز کے مزاج سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وقت سے پہلے ہی عمان پہنچ گیا تھا تاکہ کھلاڑی حالات سے بہتر طور پر مانوس ہو سکیں۔
پندرہ رکنی قومی اسکواڈ کی قیادت کپتان فرحان یوسف کر رہے ہیں جبکہ ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان صلاحیتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہیڈ کوچ اور ٹیم مینیجر شاہد انور معاون عملے کے ہمراہ ٹیم کی تربیت اور کوچنگ کے امور سنبھال رہے ہیں جن میں مختلف شعبوں کے ماہرین بھی شامل ہیں۔
ٹورنامنٹ میں فاسٹ بولنگ، اسپن بولنگ، فیلڈنگ، فٹنس اور کارکردگی کا تجزیہ کرنے والے ماہرین بھی کوچنگ اسٹاف کا حصہ ہیں۔
پاکستان کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جہاں اس کا مقابلہ روایتی حریف بھارت، یو اے ای اور نیپال جیسی ٹیموں سے ہوگا۔
قومی ٹیم اپنا دوسرا گروپ میچ 8 نومبر کو بھارت کے خلاف کھیلے گی جبکہ گروپ کا آخری میچ 10 نومبر کو نیپال کے خلاف کھیلا جائے گا۔
مسقط کے العامرات کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے ان تمام میچز کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
دوسرے گروپ یعنی گروپ بی میں افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ملائیشیا کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔
گروپ مرحلے کے تمام میچز کے اختتام پر دونوں گروپس کی سرفہرست دو دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل مقابلے 12 نومبر کو شیڈول کیے گئے ہیں جن میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی۔
ایشیا کپ کا فائنل مقابلہ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا جس کے بعد ٹورنامنٹ کے فاتح اور براعظمی چیمپئن کا فیصلہ ہوگا۔
کپتان فرحان یوسف نے ٹیم کی تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے بلند حوصلے اور مینجمنٹ کی بھرپور حمایت کو کامیابی کی کلید قرار دیا ہے۔



اپنی رائے دیں