امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نجی امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک دلچسپ بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی عوام ان سے تنگ آ گئے تو وہ اسرائیل منتقل ہو سکتے ہیں اور وہاں جا کر وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے اندر ان کی مقبولیت کی شرح 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور وہاں کے عوام انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ واشنگتن حکومت اسرائیل کے لیے دی جانے والی 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد کو بند کرنے جا رہی ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے اس امداد کی بندش کے اعلان کے بعد اسرائیلی سیاسی حلقوں اور بالخصوص اپوزیشن میں شدید ہلچل اور تشویش پائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے امریکی امداد کے خاتمے کے فیصلے کو ملک کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ملک میں حال ہی میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت ری پبلکنز کو ملنے والی شکست پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ان انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی اہم ترین وجوہات میں سے ایک تھی۔
تاہم امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ تہران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور اس معاملے پر ان کی موجودہ انتظامیہ کا پرانا اور طے شدہ مؤقف اب بھی بالکل تبدیل نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکا میں 3 نومبر کو منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔
ابتدائی انتخابی نتائج کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز سے سینیٹ کی 7 نشستیں چھین لی ہیں جبکہ کچھ ریاستوں کے حتمی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت ملنے کے بعد اب ڈیموکریٹس کو قانون سازی، حکومتی اخراجات کی نگہداشت اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی کڑی جانچ پڑتال کے وسیع اختیارات مل گئے ہیں۔
ڈیموکریٹس کی ان کامیابیوں اور اکثریت کے حصول کے بعد امریکی صدر کے لیے سیاسی میدان میں مشکلات اور چیلنجز میں نمایاں طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔

اپنی رائے دیں