امریکہ میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
روایتی ریپبلکن گڑھ کہ لانے والی نشستوں پر بھی ڈیموکریٹک امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد جنوری 2027 میں شروع ہونے والی نئی مدت کے دوران صدر کو دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 54 نشستیں جبکہ ایوانِ نمائندگان میں 224 نشستیں حاصل کر کے اپنی اکثریت مستحکم کر لی ہے۔
کانگریس پر کنٹرول حاصل ہونے کے بعد ڈیموکریٹک ارکان کو وفاقی بجٹ، دفاعی اخراجات اور انتظامی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع مل گیا ہے۔
یونیورسٹی کالج ڈبلن کے کلنٹن انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر سکاٹ لوکاس نے کہا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد کانگریس کی کمیٹیوں کے ذریعے حکومتی امور کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کے پاس اب یہ اختیار ہوگا کہ وہ انتظامیہ کے اقدامات، اخراجات اور پالیسیوں پر بازپرس کے لیے کمیٹی کے اجلاس طلب کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نو منتخب کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں بالخصوص تارکینِ وطن کے خلاف اقدامات اور صحت و تعلیم کے امور میں نئی قانون سازی کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو روکنے کے لیے وی ٹو کا اختیار موجود ہے، جسے کالعدم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
ڈیموکریٹس کو اتنی بڑی اکثریت حاصل نہیں ہے کہ وہ صدر کے وی ٹو کو اکیلے مسترد کر سکیں، اس لیے انہیں اہم قانون سازی کے لیے ریپبلکن ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔
وفاقی اخراجات اور بجٹ کے معاملے پر بھی اب کانگریس کا کردار انتہائی اہم ہو جائے گا، جس سے وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل کے درمیان پالیسی معاملات پر کشمکش کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ ڈیموکریٹک سینیٹ کے پاس کابینہ کے ارکان، سفراء اور وفاقی ججوں کی تقرریوں کی توثیق یا مسترد کرنے کا باقاعدہ اختیار بھی ہوگا۔
امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کے یہ نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی دور کے باقی ماندہ دو سالوں کے دوران حکومتی امور پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔


اپنی رائے دیں