ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں دونوں ممالک کے درمیان تاحال کافی اختلافات اور طویل فاصلہ حائل ہے۔
یہ اہم انکشاف ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے مابین بنیادی امور پر تاحال کوئی حتمی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں جاری اہم اور فیصلہ کن وسط مدت انتخابات کے بعد امریکی جنگی کارروائیوں اور عسکری سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کے امکان کو سختی سے مسترد کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بیانات مختلف میڈیا انٹرویوز کے دوران دیے جب ملک بھر میں ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ بوتھ کا رخ کر رہے تھے۔
امریکہ میں ہونے والے یہ وسط مدت انتخابات ملکی سیاست میں انتہائی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جہاں حالیہ ایران جنگ کو ایک انتہائی غیر مقبول اور بنیادی موضوع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عوام کی جانب سے اس جنگ پر پائے جانے والے تحفظات ان انتخابی مہمات اور سیاسی بحثوں کا ایک ناگزیر حصہ بنے رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے دوران خلیجی ریاست قطر نے اس کشیدہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے اور فریقین کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی مصالحتی کوششوں کو نمایاں طور پر تیز کر دیا ہے۔
قطری حکام دونوں فریقین کے مابین رابطے بحال رکھنے اور ایک قابلِ قبول حل نکالنے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم عمل ہیں۔
اس سے قبل بھی قطر خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ کی تاریخ طویل ہے اور حالیہ عسکری کارروائیوں نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ انتخابات کے اختتام کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کی نوعیت میں کوئی نئی تبدیلی آ سکتی ہے۔
تاہم فی الحال زمینی حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین پائیدار امن کے حصول کے لیے مزید طویل مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
فریقین کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑے امن معاہدے کے امکانات بہت زیادہ روشن نہیں ہیں۔




اپنی رائے دیں