لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سہ فریقی سیریز کے اہم میچ میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف دے دیا ہے۔ پاکستانی کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو ابتدائی اوورز میں کافی سودمند ثابت ہوا۔
انگلینڈ کی طرف سے اننگز کا آغاز کرنے والے بلے باز آغاز میں ہی مشکلات کا شکار ہو گئے اور پاکستانی بولرز نے ابتدائی اوورز میں ہی حریف ٹیم کی ٹاپ آرڈر لائن کو تبا کر دیا۔ شاہین شاہ آفریدی نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں ٹام بینٹن کو آؤٹ کر کے ٹیم کو پہلی کامیابی دلائی۔
صرف گیارہ رنز کے مجموعی سکور پر تجربہ کار جو روٹ بھی پویلین لوٹ گئے جنہیں شاہین آفریدی نے آؤٹ کیا۔ اس کے بعد آنے والے بیٹر ہیری بروک بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور رن آؤٹ ہو گئے۔
پاور پلے کے دوران انگلینڈ کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے جس سے ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔ اس نازک صورتحال میں بین ڈکٹ اور سیم کرن نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کے سکور کو آگے بڑھایا اور وکٹ پر قیمتی وقت گزارا۔
دونوں بیٹرز نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے نچلے مڈل آرڈر کو سنبھالا دیا اور پچاسی سے زائد رنز کی شراکت داری قائم کی۔ اس اہم پارٹنرشپ کا خاتمہ پاکستانی کپتان نے سیم کرن کو آؤٹ کر کے کیا جو اڑتالیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی جانب سے بین ڈکٹ نے انتہائی شاندار اور ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری سکور کی۔ انھوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے میدان کے چاروں اطراف سٹروکس کھیلے اور ٹیم کے مجموعی سکور میں نمایاں اضافہ کیا۔
بین ڈکٹ نے ایک سو گیارہ گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے ایک سو پانچ رنز کی اننگز کھیلی جس میں دس شاندار چوکے اور دو بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ انھیں عرفات منہاس نے پویلین کی راہ دکھائی۔
ایک موقع پر انگلینڈ کی آٹھ وکٹیں ایک سو ستاسی رنز پر گر چکی تھیں اور خدشہ تھا کہ پوری ٹیم دو سو رنز سے پہلے ہی آؤٹ ہو جائے گی۔ تاہم ٹیل اینڈرز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکور کو معقول حد تک پہنچایا۔
انگلینڈ کے فاسٹ بولر گس اٹیکنسن نے نچلے نمبر پر آ کر جارحانہ انداز اپنایا اور چھبیس گیندوں پر چھتیس رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ ان کی اس مزاحمتی اننگز کی بدولت انگلینڈ کا سکور دو سو بیالیس رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
پاکستان کی طرف سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ اوورز میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس کے علاوہ رضا اللہ نے دو جبکہ حارث رؤف نے بھی ایک وکٹ حاصل کی۔
اس میچ کے دوران پاکستانی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی ایک سو پچاس وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔ انھوں نے اپنے کیریئر کے اسی میچوں میں یہ سنگِ میل عبور کیا جو پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔
پاکستان کی ٹیم اس میچ میں چھاتی کے سرطان سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی عالمی مہم کے سلسلے میں روایتی سبز رنگ کے بجائے خصوصی طور پر تیار کردہ گلابی رنگ کی کٹس پہن کر میدان میں اتری ہے۔
واضح رہے کہ اس سہ فریقی سیریز کے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے انگلینڈ کی ٹیم کے لیے یہ میچ جیتنا انتہائی ضروری ہے۔ راولپنڈی میں کھیلے جانے والے پچھلے میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اگر پاکستان کی ٹیم اس میچ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ باضابطہ طور پر سہ فریقی سیریز کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گی۔ تماشائی قذافی سٹیڈیم میں اس اہم مقابلے سے بھرپور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔




اپنی رائے دیں