سابق امریکی صدر بارک اوباما نے امریکی ریاست اوہائیو میں ایک سیاسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ملک کو ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس جنگ کا کسی بھی طرف سے کوئی مطالبہ یا جواز موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود انتہائی خطرناک اقدامات اٹھائے گئے۔
خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو اس تنازعے کی اصل وجہ کے طور پر پیش کیا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے پاس کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار موجود ہی نہیں تھے۔ انہوں نے اس بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو غلط جواز کی بنیاد پر ایک طویل اور غیر ضروری عذاب میں مبتلا کیا گیا۔
بارک اوباما نے موجودہ امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو اپنی تقریب کے دوران بدترین نااہل قرار دیا اور کہا کہ ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کو عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی غیر سنجیدہ اور ناتجربہ کار قیادت نے ملکی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالا ہے۔
سابق صدر نے اپنے دعوے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف فتح کے دعوے اور اعلان کے محض سات ماہ بعد ہی ہمارے اہم اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اچانک حملوں کے نتیجے میں ہمارے کئی امریکی فوجی یا تو ہلاک ہوئے یا پھر شدید زخمی ہو گئے۔
موجودہ انتظامیہ کی دفاعی تیاریوں پر بات کرتے ہوئے بارک اوباما نے انکشاف کیا کہ اس نامناسب حکمت عملی کے باعث ملکی دفاعی ضروریات کے لیے رکھے گئے میزائلوں کے تمام ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین غفلت نے ملک کے دفاعی نظام کو انتہائی غیر محفوظ بنا دیا ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ موجودہ غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اب ایران کو اس انتہائی اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر وی ٹو پاور حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس اسٹریٹجک ناکامی نے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور دشمن کو فائدہ پہنچایا ہے۔
عالمی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بارک اوباما نے بتایا کہ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اور ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں برتری کھونے اور کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے توانائی کے ذخائر کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے معیشت کو زبردست دھکا لگا ہے۔
معاشی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اس غیر ضروری جنگ کے براہ راست اثرات عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک بھر میں اشیا کی قیمتوں میں دن بدن اضافے کی ایک سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہی جاری جنگ اور اس کے منفی معاشی نتائج ہیں۔
امریکہ کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا احاطہ کرتے ہوئے بارک اوباما نے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں دیرپا امن کا خواب مزید دور ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط فیصلوں کی قیمت ملک کے عام محنت کش طبقے کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
اوہائیو میں منعقد ہونے والی اس بڑی سیاسی ریلی کے دوران سابق صدر کے ان دوٹوک بیانات کو بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں انتہائی حیرت اور اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کے یہ ریمارکس آنے والے دنوں میں ملکی سیاست اور خارجہ پالیسی کے مباحثوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
بارک اوباما کا یہ اہم خطاب ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کی رسد کے معاملات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں گرم بحث اور گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سابق صدر کی جانب سے موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں پر اس نوعیت کی بے باک تنقید آئندہ کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ عوام کی جانب سے بھی اس خطاب میں اٹھائے گئے معاشی اور دفاعی نکات پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خطاب کے آخر میں سابق صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کو درست سمت میں لانے کے لیے سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر غلطیوں کا اعتراف کر کے اصلاح احوال نہ کی گئی تو ملک کو مزید سنگین بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



اپنی رائے دیں