لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں ماحول دوست اور ماحول کی بہتری کے لیے الیکٹرک بائیکس کے استعمال کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ تشکیل دے دیا گیا ہے جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں الیکٹرک موٹر سائیکلیں فراہم کی جائیں گی۔
منصوبے کے مطابق مقررہ مدت کے اندر اندر شہریوں کو الیکٹرک بائیکس مہیا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ اقدام عوامی سطح پر ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے اور سموگ پر قابو پانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے اس اہم ترین منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک کی نامور مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کمپنیوں سے باقاعدہ طور پر درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کا یہ منصوبہ انتہائی منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کل دو سو بیچز تشکیل دیے جائیں گے جن میں ہر بیچ پانچ سو بائیکس پر مشتمل ہوگا۔
کمپنیوں کے انتخاب کے لیے شفاف مسابقتی بولی کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ اس مسابقتی عمل کے ذریعے بہترین معیار اور مناسب قیمت پیش کرنے والی کمپنیوں کو اس بڑے عوامی منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔
اس سارے عمل کا ایک اہم مقصد ملکی سطح پر مقامی صنعت کو فروغ دینا بھی ہے۔ مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ تکنیکی مہارت میں بھی اضافہ ہوگا۔
منصوبے کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکلیں خریدنے والے عام شہریوں کو خصوصی مالیاتی ریلیف دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق بائیک خریدنے پر خریداروں کو اسی ہزار روپے تک کی نمایاں سبسڈی دی جا سکتی ہے۔
درخواستیں جمع کرانے کے لیے حتمی تاریخ تین نومبر دو ہزار چھبیس مقرر کی گئی ہے۔ خواہشمند اور اہل کمپنیاں اس تاریخ کو صبح گیارہ بجے تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتی ہیں۔
یہ تمام تر درخواستیں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے سرکاری ای پورٹل پر آن لائن جمع کرائی جائیں گی۔ اس ڈیجیٹل نظام سے تمام کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
درخواست دینے کے عمل کے لیے پانچ ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے جو کہ ناقابلِ واپسی ہوگی۔ یہ فیس تمام شرائط و ضوابط کے مطابق متعلقہ اکاؤنٹ میں جمع کرانا لازمی ہوگی۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ کمپنیاں جو اس سے پہلے ہی باقاعدہ طور پر اہل قرار دی جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
حالیہ برسوں میں ملک کے بڑے شہروں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دو پہیوں کی سواری کے لیے الیکٹرک بائیکس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیں گے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ فراہم کی جانے والی الیکٹرک بائیکس پائیدار ہوں اور ملکی سڑکوں کی صورتحال کے مطابق بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔
اس منصوبے سے نہ صرف عام آدمی کو روزمرہ کے آمدورفت کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی ملے گی بلکہ قومی سطح پر درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہوگا۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مقررہ تاریخ تک نامور کمپنیاں اس عمل کا حصہ بنیں گی جس کے بعد جلد ہی بائیکس کی فراہمی اور سبسڈی کے حتمی مراحل کا آغاز کر دیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں