استنبول میں منعقدہ ایک اہم اور اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی اجلاس کے دوران پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و امان کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی تفصیلات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں سفارتی ذرائع کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بروقت بچا جا سکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق نائب وزیراعظم نے ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں منعقدہ آر فور گروپ کے اس چوٹی کے اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔ اس کثیر الجہتی اور اہم اجلاس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر سمیت کئی اہم یورپی ممالک جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ بھی شامل تھے، نے شرکت کی اور خلیجی خطے کے بدلتے ہوئے حالات پر گہری غور و خوض کیا۔
اجلاس کے دوران تمام شرکا نے خلیجی خطے کی تازہ ترین اور اہم ترین علاقائی صورتحال، سلامتی کے نازک امور اور ان کے وسیع معاشی و سماجی اثرات پر انتہائی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اس بات کا بالخصوص جائزہ لیا گیا کہ کس طرح تمام متعلقہ ممالک باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطے کو کسی بھی بڑے بحران اور سنگین تباہی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیجی خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان کے انتہائی کلیدی کردار اور ثالثی کی مخلصانہ کوششوں پر بھرپور روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں تنازعات کے پرامن اور مذاکراتی حل کا حامی رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے اجلاس میں موجود عالمی برادری کے نمائندگان کو بتایا کہ پاکستان خطے میں دوبارہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے آغاز کو روکنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ اس بنیادی مقصد کے حصول کے لیے اسلام آباد کی جانب سے تمام دوست اور برادر ممالک کے ساتھ انتہائی قریبی رابطے رکھے جا رہے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر ایک مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران شریک تمام وزرائے خارجہ نے خلیجی خطے کے امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے اس بات پر بھی مکمل اتفاق کیا کہ اس اہم فورم کے تحت باہمی مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی بلا تعطل جاری رہنا چاہیے تاکہ خطے کو درپیش چیلنجز کا بروقت اور مشترکہ مقابلہ کیا جا سکے۔
مقررین اور شرکا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی تنازعات کے نہ صرف متعلقہ خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور معاشرتی ڈھانچے پر انتہائی گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر سنجیدہ، مخلصانہ اور پائیدار حل کی طرف تیزی سے قدم بڑھائیں تاکہ انسانیت کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے اس دورہ استنبول کے دوران مختلف ممالک کے اپنے ہم منصب وزرائے خارجہ سے الگ تھلگ اور دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان اہم ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات کے مزید فروغ، علاقائی سلامتی کے امور اور باہمی دلچسپی کے تمام دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس سے پاکستان کے سفارتی مؤقف کو مزید تقویت ملی۔
دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی فورمز پاکستان کو دنیا کے سامنے اپنے مؤقف کو نہایت مؤثر اور شاندار انداز میں پیش کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ مسلسل سفارتی کوششیں اس بات کا واضح ثبوت اور عزم کا اعادہ ہیں کہ ملک خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
خلیجی خطے کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز کو اجلاس کے شرکاء کی جانب سے پذیرائی ملی جو خطے میں امن کی بحالی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے خیالات کے مطابق، اس قسم کے سفارتی رابطے نہ صرف غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا بہترین زریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔ تمام وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امن کے فروغ کے لیے رابطے بحال رکھیں گے۔
اسحاق ڈار کا یہ دورہ استنبول اور آر فور اجلاس میں شرکت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان بیرونی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے اور خطے کے امن کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔ حکومت پاکستان کی یہ پالیسی ملک کے مفادات کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو رہی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ایسے تمام پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں شرکت جاری رکھے گا جہاں خطے کے امن، سلامتی اور ترقی کی بات کی جاتی ہو۔ پاکستان کا مقصد ہمیشہ خطے میں تنازعات کا خاتمہ اور باہمی تعاون کو فروغ دینا رہا ہے جو کہ اس اجلاس میں بھی واضح طور پر نظر آیا۔





اپنی رائے دیں