نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے تاریخی اور ثقافتی مرکز استنبول کا اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی بیٹھک میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ مصدقہ تفصیلات کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کے علاوہ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل اہم علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔ اس کثیر الجہتی اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں یورپی یونین اور خطے کے اہم ترین ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی منظر نامے پر تفصیلی غوروخوض کیا اور عالمی سفارت کاری میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
استنبول میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں خلیجی خطے کی موجودہ پیچیدہ اور ابتر ہوتی ہوئی علاقائی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا جس کے دوران شرکا نے خطے میں امن عامہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کا بنیادی مقصد خلیجی خطے میں رونما ہونے والے واقعات کے خطے کے تمام ممالک پر مرتب ہونے والے سماجی اور معاشی اثرات کا احاطہ کرنا تھا۔ اجلاس کے شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات ایسے ہیں کہ جن میں کسی بھی قسم کی غفلت خطے کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کر سکتی ہے لہذا اس کے تدارک کے لیے مشترکہ لائحہ عمل انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
اجلاس کے دوران تمام شرکا کا اس نکتے پر مکمل اتفاق پایا گیا کہ موجودہ غیر یقینی حالات میں خطے کے اندر امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کو درپیش بڑے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہونے کے لیے سفارتی روابط کو فوری طور پر مزید فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں تنہائی کی پالیسی چھوڑ کر باہمی مشاورت کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا بحران کو وقت سے پہلے روکا جا سکے۔ تمام ممالک کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطے کے عوام کو ایک پرامن اور خوشحال مستقبل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ترکیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں پاکستان سمیت کل آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی اور دو طرفہ نیز کثیر جہتی علاقائی امور پر انتہائی کھل کر اور تعمیری انداز میں تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس کی تمام کارروائی کا اصل محور اور مرکز خطے میں دیرپا امن کی بحالی تھا تاکہ جنگ اور کشیدگی کے سائے سے نکل کر ترقی کے راستے پر گامزن ہوا جا سکے۔ شرکا نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ موجودہ دور میں جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو تمام فریقین کو ایک قابل قبول منزل تک پہنچا سکتا ہے اور خطے کے غریب عوام کو مشکلات سے نجات دلوا سکتا ہے۔
موجودہ کشیدہ ماحول میں سفارتی کوششوں کو انتہائی تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اجلاس کے شرکا نے اس بات کی ضرورت ظاہر کی کہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ غیر روایتی ثالثی کے ذرائع بھی بروئے کار لائے جائیں۔ وزرائے خارجہ کا اس بات پر اصرار تھا کہ تمام متنازعہ امور کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کیا جانا چاہیے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار تعطل یا بحران سے بچایا جا سکے۔ شرکا نے اس بات کو تسلیم کیا کہ معیشت کی بحالی اور تجارت کا فروغ اسی صورت میں ممکن ہے جب خطے کے اندر امن اور سلامتی کی فضا بحال ہو گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے گا۔
اس اعلیٰ سطحی موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے روایتی قائدانہ انداز میں اجلاس کے تمام شرکا کو تفصیل کے ساتھ اس امر سے آگاہ کیا کہ پاکستان اس وقت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے کون کون سی سفارتی کوششیں انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کو ترجیح دی ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان برادر اسلامی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر ثالثی کے حوالے سے کیا عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ان کے اس مؤقف کو اجلاس کے شرکا کی جانب سے انتہائی غور سے سنا گیا اور اسے سراہا گیا جس سے پاکستان کے سفارتی وزن اور اہمیت کا ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہوا۔
اجلاس میں شریک تمام ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس موقع پر پاکستان کے سفارتی کردار کی بھرپور اہمیت کو تسلیم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ شرکا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کا خطے کی سیاست میں ایک کلیدی اور متوازن کردار ہے جس کے بغیر کسی بھی بڑے بحران کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ اس موقع پر مختلفممالک کے وزرائے خارجہ نے سینیٹر اسحاق ڈار کے ساتھ الگ سے بھی مختصر ملاقاتیں کیں جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے مفید اور نتیجہ خیز گفت و شنید کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔
اجلاس کے باضابطہ اختتام پر تمام شرکا نے اس امر پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ خطے میں بدلتی ہوئی انتہائی متحرک صورتحال پر باقاعدہ اور مسلسل مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ حالات پر گہری نظر رکھی جا سکے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ باہمی رابطوں کو مستقبل میں مزید مؤثر، مربوط اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ایک ایسا میکانزم تیار کیا جائے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ظاہر کر سکے۔ تمام وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اس نوعیت کے مشاورتی اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ سب مل کر بیٹھ سکیں۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت یہ طے پایا کہ یہ آٹھ ممالک علاقائی چیلنجز کا بروقت، مشترکہ اور بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی سطح پر بھی رابطہ رکھیں گے تاکہ معلومات کے تبادلے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اس سفارتی بیٹھک کا ایسے وقت میں انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب خلیجی خطے کے اندر امن و امان کی بحالی اور معاشی استحکام کو دنیا بھر میں بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ اگر اس خطے میں امن بحال نہیں ہوتا تو اس کے منفی اثرات پوری دنیا کی معیشت بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑیں گے جنہیں سنبھالنا پھر کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں رہے گی۔
پاکستان کا اس پورے سفارتی عمل میں فعال اور مثبت کردار خطے میں اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی ریاست کے طور پر خطے کے امن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کردہ تفصیلی بیان میں اس بات کو نمایاں کیا گیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا یہ کامیاب دورہ اور اس کثیر الجہتی اجلاس میں شرکت دراصل خطے میں امن کے قیام اور استحکام کی خاطر پاکستانی حکومت کی انتہائی سنجیدہ اور عملی کوششوں کا ایک واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دورہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔
استنبول کی اس اہم بین الاقوامی بیٹھک میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے اہم برادر ممالک کی موجودگی نے اس فورم کے وزن میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ جیسے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت نے اسے ایک عالمی نوعیت کا فورم بنا دیا ہے۔ اس اجلاس کے دوران ہونے والی طویل بات چیت اور مشاورت کے نتیجے میں اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو سفارتی کوششیں جاری ہیں انہیں ایک نئی رفتار اور توانائی ملے گی۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس قسم کے اجلاس دراصل پس پردہ رابطوں کو تیز کرنے اور فریقین کے درمیان پائے جانے والے خلیج کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اس سے طویل مدتی امن کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی روح کے مطابق تمام ممالک نے اس عزم کو دہرایا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت خطے میں امن اور سلامتی کی فضا کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔ اس اجلاس کے انعقاد سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان کا وزارت خارجہ کا ادارہ اور موجودہ سیاسی قیادت ملک کے وقار اور علاقائی امن کے لیے انتہائی فعال انداز میں دن رات کام کر رہی ہے۔ اس نوعیت کے بین الاقوامی دورے اور ملاقاتیں پاکستان کی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے اور اسے دنیا کے سامنے ایک امن پسند ملک کے طور پر پیش کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں جو ملک کے قومی مفاد کے عین مطابق ہے۔
آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ استنبول کے اس اجلاس نے تمام شرکا کو ایک ایسا نادر موقع فراہم کیا جہاں انہوں نے بغیر کسی سفارتی لگی لپٹی کے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اس اجلاس میں شرکت اور وہاں پیش کی جانے والی تجاویز کو تمام عالمی میڈیا اور علاقائی دارالحکومتوں میں انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان سفارتی کوششوں کے آنے والے دنوں میں انتہائی مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے جو نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پورے خطے کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے اور دنیا بھر میں امن کا پیغام عام ہو گا جو کہ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔





اپنی رائے دیں