پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے اندرونی اختلافات نے شدت اختیار کر لی ہے اور پارٹی کے مختلف دھڑے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ حالیہ سیاسی صورتحال اور اہم مشن کی ناخوشگوار صورتحال کے بعد جماعت کے اندر صفوں میں مایوسی پھیل چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کی کور کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں رہنماؤں نے موجودہ حالات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس کے دوران شرکاء ایک دوسرے پر انتہائی شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آئے اور ماضی کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے۔
اجلاس کے اندر اسلام آباد کی طرف مارچ کے حوالے سے کیے جانے والے طویل دعوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بیس لاکھ افراد کو دارالحکومت لانے کے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے جو پورے نہ ہو سکے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس ناکامی کا تمام تر ملبہ مخصوص رہنماؤں پر ڈالا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سہیل آفریدی کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور ان کی حکمت عملی پر کڑی تنقید کی گئی۔
رہنماؤں کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ حکمت عملی کے فقدان کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اجلاس میں شریک بعض رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا کہ متعلقہ شخصیت اس عمل کے بعد مشکل پوزیشن میں آ چکی ہے۔
صوبائی حکومت کے خاتمے اور غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں جماعت کے اندرونی معاملات مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ مشکل وقت میں اتحادی یا فکری حلیفوں کے کردار پر بھی پارٹی کے اندر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے سیاسی کردار اور ان کی حکمت عملی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں کا ماننا تھا کہ موجودہ مرحلے پر بعض فیصلے درست سمت میں نہیں اٹھائے گئے۔
اسی طرح سلمان اکرم راجہ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی سیاسی کمیٹی کے قیام کے طریقہ کار کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کی تشکیل میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔
سیاسی کمیٹی کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات نے جماعت کے اندر موجود خلیج کو مزید واضح کر دیا ہے۔ کارکنان اور قائدین کی سطح پر اس قسم کے اختلافات سے پارٹی کے مجموعی بیانیے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کو اس وقت سنگین نوعیت کے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اتحاد کے بجائے اندرونی چپقلش عروج پر پہنچ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قیادت کو فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
پارٹی کے اندر موجود مختلف دھڑے اب اپنے تحفظات کو میڈیا اور اندرونی فورمز پر کھل کر بیان کر رہے ہیں۔ کور کمیٹی کا حالیہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ جماعت کے اندر فیصلے کرنے کے عمل پر بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہونے والے ان اجلاسوں میں اتفاق رائے کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ اگر ان اندرونی اختلافات کو جلد ختم نہ کیا گیا تو جماعت کے لیے سیاسی میدان میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
مجموعی صورتحال کے تناظر میں پارٹی کے اندرونی حلقے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں تاکہ جماعت کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔




اپنی رائے دیں