مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:37
بریکنگ
بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاکامریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیابھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیاآئی سی سی رینکنگ میں بڑی تبدیلی، مارکو جینسن اور ابھیشیک شرما نمبر ون بن گئےکراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتارملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویشعالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحقکراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکانفیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازتاسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظور
پاکستان

عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت کا مقدمہ جیت لیا، 8 کروڑ ہرجانے کا حکم

لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سنا دیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ہتکِ عزت کے ایک اہم قانونی مقدمے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جہاں عدالت نے مدعا علیہ کو بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی صوبائی وزیر کی جانب سے عائد کردہ بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے خلاف عمل میں لائی گئی تھی، جسے عدالت نے غلط ثابت کر دیا۔

لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے اس مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کو ہدایت دی ہے کہ وہ عظمیٰ بخاری کو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی رقم بطور ہرجانہ ادا کریں۔ ٹربیونل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس مقدمے کا تفصیلی اور مکمل فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس قانونی تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب معین ریاض قریشی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران صوبائی وزیر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ پنجاب اسمبلی کے موقع پر عظمیٰ بخاری کی جانب سے معاوضہ یافتہ افراد کو اسمبلی کے اندر داخل کروایا گیا تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ مذکورہ موقع پر سوالات کرنے والے صحافی بھی صوبائی وزیر کے تنخواہ دار ملازمین تھے۔ ان بیانات کو سیاسی حلقوں میں کافی شہرت ملی اور اس سے صوبائی وزیر کی شخصیت پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر جھوٹا، من گھڑت اور اپنی سیاسی و شخصی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے قانون کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور ڈیفیمیشن ایکٹ کے تحت عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت میں اس مقدمے کی پیروی نامور وکیل علی بخاری نے کی، جنہوں نے مدعی کی طرف سے مدلل دلائل پیش کیے۔ سماعت کے دوران عدالت میں فریقین کے بیانات اور موقف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ٹربیونل نے اپنا فیصلہ سنایا۔

ڈیفیمیشن ٹربیونل کی جانب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ معین ریاض قریشی نے ٹی وی پروگرام کے دوران مذکورہ بیانات دینے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم وہ اور ان کے قانونی مشیر عدالت کے سامنے اپنے الزامات کے حق میں کوئی بھی مستند ثبوت، دستاویزی شواہد یا ثاقب دلیل پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ مدعا علیہ کے وکلاء کارروائی کے دوران عظمیٰ بخاری کے ہتکِ عزت کے دعوے کو غلط، کمزور یا بے بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا قانوناً جرم ہے جس کی کڑی سزا بنتی ہے۔

عدم ثبوت اور الزامات کے غلط ثابت ہونے پر عدالت نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے معین ریاض قریشی کو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے کی کثیر رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس فیصلے کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر کسی بھی شخص پر بغیر تصدیق کے الزام لگانے کے رجحان میں کمی آئے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عدلیہ سیاسی شخصیات کی عزتِ نفس اور شخصی وقار کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

عظمیٰ بخاری کے حامیوں اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے حق کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفت میں جھوٹے الزامات لگانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

معین ریاض قریشی اور ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے تاحال تفصیلی فیصلے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

پنجاب کے سیاسی منظر نامے میں اس فیصلے کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جہاں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات بازی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عدالتوں کی جانب سے ہتکِ عزت کے مقدمات میں اس قسم کے سخت فیصلے سیاستدانوں کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں