اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر کھلے عام سگریٹ نوشی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران انہوں نے کہا کہ پارلیمان جیسے اہم ترین قومی ادارے کی عمارت میں بعض افراد کی جانب سے بلا روک ٹوک تمباکو نوشی کی جارہی ہے۔
احسن اقبال کا مؤقف تھا کہ اس عمل سے نہ صرف قانون ساز خود متاثر ہوتے ہیں بلکہ وہاں موجود دیگر اراکین کو بھی شدید ذہنی و جسمانی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو اراکین سگریٹ نوشی نہیں کرتے، ان کا اس ماحول میں کیا قصور ہے کہ وہ مجبوری میں اس دھوئیں کو برداشت کریں۔
قومی اسمبلی کے اس سیشن کے دوران خاتون رکن نعیمہ کشور نے بھی اس مسئلے پر آواز بلند کی اور ایوان میں موجود خواتین کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمنٹ کے احاطے میں تمباکو نوشی کے پھیلاؤ کی وجہ سے خواتین اراکین کو نماز کی ادائیگی کے دوران شدید نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رکن اسمبلی نعیمہ کشور کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے دھوئیں اور اس کی بدبو کے باعث عبادت کے دوران سانس لینا تک دشوار ہو جاتا ہے، جس سے عبادی امور کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اراکین کی جانب سے ان شکایات کے سامنے آنے کے بعد ایوان میں اس سنگین مسئلے پر سنجیدہ بحث دیکھنے میں آئی۔
اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی ان شکایات اور تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان میں واضح رولنگ جاری کی ہے۔ اسپیکر نے یاد دہانی کرائی کہ ملک بھر کے تمام عوامی مقامات پر پہلے ہی سگریٹ نوشی پر قانونی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر تمباکو نوشی کے شوقین افراد کے لیے پہلے سے ہی ایک مخصوص جگہ مختص کی گئی ہے تاکہ قانون سازوں کو تکلیف نہ ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ مختص کردہ اس مخصوص جگہ کے علاوہ کہیں اور سگریٹ نوشی نہ کی جائے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے دائر ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کروائیں تاکہ غیر تمباکو نوش ارکان اور بالخصوص خواتین اراکین کو مزید کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اقدام کا مقصد قانون ساز ادارے کے اندر ایک صحت مند اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ماحولیاتی آلودگی اور سگریٹ کے دھوئیں کے تدارک کے لیے اراکین کی جانب سے مختلف تجاویز بھی زیرِ غور آئیں جن میں لابیز کو مکمل طور پر اسموکنگ فری قرار دینے کا پرزور مطالبہ بھی شامل تھا۔ قانون سازوں کا یہ ماننا ہے کہ پارلیمنٹ کو پورے ملک کے لیے ایک بہترین مثال بننا چاہیے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں پہلے ہی سرکاری دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت تمام عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ تاہم ان قوانین پر قانون ساز ادارے کے اندر ہی سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
اسپیکر کی جانب سے جاری کردہ ان تازہ ہدایات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ کی عمارت بالخصوص اس کی لابیز اور راہداریوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں نمایاں کمی آئے گی۔ اراکین پارلیمنٹ نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کیا جائے گا۔
تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام پارلیمانی اور انتظامی مشینری کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندرون خانہ فضا کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور تمام اراکین بلا کسی رکاوٹ اپنی دفتری و پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کر سکیں گے۔
عوامی نمائندگان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ خود بھی ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کریں۔ اس طرح کی شکایات کا سامنے آنا اس بات کا غماز ہے کہ قانون کے نفاذ کو سب سے پہلے خود ایوانِ قانون ساز کے اندر یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
آئندہ کے لیے انتظامیہ کو بھی اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ وقفے وقفے سے اس بات کا جائزہ لے کہ آیا پارلیمنٹ ہاؤس میں تمباکو نوشی کے لیے مختص کردہ اصولوں پر مکمل عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔ اس سے تمام اراکین کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی ہو سکے گا۔




اپنی رائے دیں