مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
وکٹر ومبنیاما کے 52 پوائنٹس کے شاندار کھیل سے سپرز کی ڈلاس میورکس پر کامیابیامریکی ریاست کولوراڈو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہیسوات: خاتون سے زیادتی میں ملوث 2 پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجفیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او کیسز سننے سے روک دیاآبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز اور ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰبینک آف پنجاب نے پاکستان کا پہلا ماسٹر کارڈ ورلڈ ایلیٹ متعارف کرا دیاآٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض کا خطرہ دو گنا زیادہ ہونے کا انکشافوی رات کوہلی کی شاندار بیٹنگ، بھارت نے نیوزی لینڈ کو پہلے ون ڈے میں شکست دے دییو ایف سی کے سربراہ ڈانا وائٹ کا اسلام مخاچیف کو فائٹس بڑھانے کا مشورہلندن: عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ پر فیشل ریکگنیشن کیمروں کا منصوبہ تیاربھارت: چاکلیٹ کے تنازع پر 12 سالہ لڑکی نے 4 سالہ بچے کو قتل کر دیاپاکستان 23 ویں ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیاامریکی وسط مدتی انتخابات: فلوریڈا اور جارجیا میں تاریخی نتائج سامنے آ گئےعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا امکانکامو کا یوئیفا چیمپئنز لیگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ، لینس کو ایک کے مقابلے میں نو گول سے شکستون کنسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشافایران جنگ امریکی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ بنی، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کے لیے مقررامریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست، پارٹی اندر شدید ردعملامریکہ: نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں شکست کی وجہ ایران جنگ کو قرار دے دیا
دلچسپ و عجیب

سوشل میڈیا پر وائرل گھنی مونچھوں والے نومولود کی ویڈیو حقیقت یا فریب؟

انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ایکواڈور کے نومولود بچے کی ویڈیو نے صارفین کو حیرت میں مبتلا کر دیا، ماہرین نے ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا شبہ ظاہر کر دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل گھنی مونچھوں والے نومولود کی ویڈیو حقیقت یا فریب؟

سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک نومولود بچے کو گھنی اور سیاہ مونچھوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس غیر معمولی منظر نے انٹرنیٹ صارفین کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا ہے اور اس پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایکواڈور سے ہے، جہاں یہ بچہ پیدا ہوا۔ ویڈیو میں بچے کے اوپری ہونٹ پر نمایاں اور گھنے بال دیکھے جا سکتے ہیں جو عام نومولود بچوں کی ظاہری شکل سے بالکل مختلف اور غیر فطری معلوم ہوتے ہیں۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے مختلف مزاحیہ انداز میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے ایک 'بزرگ' بچے سے تشبیہ دی ہے، جبکہ کچھ نے اسے ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا کمال قرار دیتے ہوئے مختلف مزاحیہ تصاویر اور میمز بھی بنائی ہیں۔

طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نومولود بچوں کے جسم پر 'لینوگو' نامی باریک اور نرم بال ہو سکتے ہیں جو پیدائش کے کچھ عرصے بعد خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، یہ بال اتنے گھنے اور واضح نہیں ہوتے جیسے کہ ویڈیو میں دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک فیکٹ چیک رپورٹ میں اس ویڈیو کے مستند ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بچے کے چہرے کی حرکات کے ساتھ مونچھوں کا انداز قدرتی نہیں لگتا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت یا کسی ڈیجیٹل ٹول کے ذریعے شامل کیا گیا ہے۔

فیکٹ چیک کرنے والے اداروں کا مزید کہنا ہے کہ ویڈیو میں مونچھوں پر پڑنے والی روشنی اور پس منظر میں موجود اسپتال کے کمرے کی روشنی میں بھی واضح فرق پایا جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے۔

اب تک اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی اسپتال، ڈاکٹر یا بچے کے خاندان کی جانب سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ کسی بھی طبی ریکارڈ کی عدم موجودگی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ یہ ویڈیو محض ایک ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

اگرچہ طبی دنیا میں 'ہائپرٹرائیکوسس' جیسی نایاب کیفیات موجود ہیں جن میں جسم پر غیر معمولی بال اگ سکتے ہیں، لیکن اس وائرل ویڈیو کا کسی بھی حقیقی طبی کیس سے کوئی ثابت شدہ تعلق تاحال سامنے نہیں آ سکا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اکثر ایسی ویڈیوز کو ڈیجیٹل فلٹرز یا اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسی ویڈیوز پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے ان کی حقیقت کو جانچنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اکثر وائرل ہونے والی ایسی ویڈیوز ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے اس پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ کوئی نایاب طبی معجزہ ہے یا صرف ایک ڈیجیٹل دھوکہ۔ تاہم، دستیاب شواہد کی روشنی میں اسے ایک جعلی یا ای ڈیٹ شدہ مواد ہی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس طرح کی ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں صارفین بغیر تصدیق کے شیئر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دلچسپ و عجیب کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں