جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں ایک بڑے بینک کے مالیاتی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے دوران پارلیمنٹ نے صدر سینتیاگو پینا کا مواخذہ کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کردیا۔
برطرفی کے چند ہی منٹ بعد متعلقہ حکام نے سابق صدر کو فوری طور پر ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا ہے۔
سابق صدر پر بینک کے مالی معاملات میں مبینہ مداخلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز پیراگوئے کی سینیٹ میں صدر کے مواخذے کی منظوری کے لیے ووٹنگ کا عمل منعقد ہوا۔
اس اہم ووٹنگ میں اجلاس میں موجود تمام چوالیس سینیٹرز نے صدر کی برطرفی کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا، جبکہ ایک سینیٹر اجلاس میں شریک نہیں ہو سکا۔
پیراگوئے کا ایک بڑا ڈیجیٹل بینک یوئینو بینک شدید مالی مشکلات کا شکار ہوگیا تھا اور وہ مقررہ سرمایہ جاتی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا تھا۔
سرمایہ جاتی تقاضے پورے نہ کرنے کے باعث یہ ادارہ مرکزی بینک کی سخت کارروائی کی زد میں آ گیا تھا۔
حکام نے تین نومبر کو اس بینک کا انتظامی کنٹرول براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔
انتظامی کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد لگ بھگ تیس لاکھ صارفین اپنے اکاؤنٹس، بچتوں اور بینک کارڈز تک رسائی سے یکسر محروم ہو گئے ہیں۔
متاثر ہونے والے یہ صارفین ملک کے تقریباً ساٹھ فیصد بالغ شہریوں کی تعداد کے برابر بتائے گئے ہیں جنہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس ڈیجیٹل بینک میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ مختلف سرکاری اداروں اور پنشن فنڈز کی بھی سینکڑوں ملین ڈالر کی رقوم جمع تھیں۔
حکام کی جانب سے اس مالی بحران کے بعد سے مسلسل حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔
ملکی سیاسی تاریخ میں پیش آنے والے اس ناگہانی واقعے نے پارلیمنٹ اور دیگر اہم اداروں میں ہلچل مچا دی ہے جس کے اثرات ملک بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اپنی رائے دیں