مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:57
بریکنگ
پشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیامریکی صدر ٹرمپ کی نئی ترجمان کی تعلیمی اسناد اور قانونی اہلیت پر سوالاتتعلیمی اداروں میں بدگمانی کا خاتمہ: حسنِ ظن اور تحقیق کی اہمیتافغان حکومت کا واخان کوریڈور منصوبہ، ماہرین کی جانب سے عملی مشکلات کا اظہارامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپسسعودی اتحادی فوج نے حوثی ملیشیا کے کروز میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دیلاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش، بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاریفیفا کا ورلڈ کپ 2026 کی کامیابی کے بعد فٹبال کی ترقی کیلئے فنڈز میں نمایاں اضافے کا اعلانپنجاب میں 10 روزہ بسنت منانے کا حکومتی اعلان لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
دنیا بریکنگ نیوز

امریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہ

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے جی بی یو-43 بم کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔

امریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہ

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے نئے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 'مدر آف آل بمز' (MOAB) کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔

امریکی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مشیروں نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران ایران کے حوالے سے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بڑی کارروائی سے گریز کا عندیہ دیا تھا، تاہم نجی سطح پر مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوج کو ایرانی اہداف کے خلاف اضافی اسٹرائیک پیکجز تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان منصوبوں میں خاص طور پر 'پک ایکس ماؤنٹین' جیسی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایم او اے بی کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔

اس فوجی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ یہ حملہ 'سینٹ کام' کے علاقے سے امریکی انخلا سے قبل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک بڑی کارروائی کے بعد فتح کا اعلان کر کے فوری انخلا کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

جی بی یو-43/بی، جسے ایم او اے بی کہا جاتا ہے، امریکی اسلحہ خانے میں موجود سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے۔ یہ جی پی ایس گائیڈڈ ہتھیار ہے جو زمین سے ٹکرانے سے قبل ہوا میں پھٹتا ہے اور وسیع رقبے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم، ماہرین اور عسکری ذرائع اس بم کی تاثیر کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بم سطح پر موجود اہداف کے لیے تباہ کن ہے، لیکن زمین کی گہرائی میں موجود گرینائٹ کی تہوں سے محفوظ جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ اسے ایک 'نفسیاتی ہتھیار' کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس بم کو بنیادی طور پر دشمن کے حوصلے پست کرنے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

ایم او اے بی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اسے عراق جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد بڑے فوجی اجتماعات اور زمین کے اوپر موجود مضبوط بنکرز کو نشانہ بنانا تھا، تاہم بعد ازاں اس کے اہداف کے دائرہ کار میں غاروں اور سرنگوں کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایم او اے بی کو استعمال کرنے والے پہلے امریکی صدر بنے تھے۔ سن 2017 میں انہوں نے امریکی فوج کو افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں پر اس سب سے طاقتور غیر جوہری بم کو گرانے کا اختیار دیا تھا۔ افغان حکام کے مطابق اس حملے میں داعش کے 36 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ بارہا 'پک ایکس' پر حملے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس ممکنہ منصوبے پر عمل درآمد سے خطے میں کشیدگی میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک طاقتور ہتھیار ہے، لیکن اسٹریٹجک اعتبار سے اس کے نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکی میڈیا میں گردش کرنے والی یہ خبریں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی کارروائی کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں پر بھی مرتب ہوں گے، جس کے پیش نظر عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں