کراچی میں واقع بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ آف فزیوتھراپی (ڈی پی ٹی) کے پہلے بیچ کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز آئندہ ماہ جنوری سے کر دیا جائے گا۔
ایک پریس بریفنگ کے دوران وائس چانسلر نے بتایا کہ ڈی پی ٹی پروگرام کے لیے اب تک 30 طلبہ کو داخلے دیے جا چکے ہیں جبکہ مزید داخلوں کا عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ڈاکٹر حسین مہدی نے مزید انکشاف کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نرسنگ کا شعبہ شروع کرنے کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو این او سی کے حصول کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائی جائے گی۔
پریس بریفنگ میں یونیورسٹی سے الحاق شدہ ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج کی حیثیت پر بھی بات کی گئی۔ وائس چانسلر نے واضح کیا کہ اس کالج کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے کچھ قانونی اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے کہ لیاری یونیورسٹی کے پاس اپنی لاء فیکلٹی موجود نہیں ہے، جس کے بغیر کسی لاء کالج کو الحاق دینا ضابطوں کے مطابق نہیں ہے۔
وائس چانسلر کے مطابق ماضی میں اس کالج کو یونیورسٹی کا کونسٹیٹیونٹ کالج قرار دیا گیا تھا، تاہم اس کا انتظام یونیورسٹی کے بجائے سندھ حکومت کے پاس رہا۔ بعد ازاں اسے الحاق شدہ کالج کا درجہ دے دیا گیا جو کہ اب متنازعہ ہے۔
ڈاکٹر حسین مہدی نے کہا کہ یونیورسٹی کو اب چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اگر کمیٹی نے الحاق جاری رکھنے کی سفارش کی تو یونیورسٹی کو اپنا اسکول آف لاء قائم کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کمیٹی کی جانب سے اعتراضات برقرار رہے تو یونیورسٹی لاء کالج کا الحاق منسوخ کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وائس چانسلر نے لاء کالج کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کالج نے 50 نشستوں کے مقابلے میں 200 داخلے دیے جو کہ سراسر غیر قانونی عمل تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاء کالج کی جانب سے ایک نجی یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبہ کو داخلے دینے اور انہیں ڈگریاں جاری کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ تمام نئے پروگرامز کا آغاز ایچ ای سی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جائے گا تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ رہے۔
لیاری یونیورسٹی کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد علاقے کے طلبہ کو جدید طبی اور تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ فزیوتھراپی اور نرسنگ کے شعبوں کا قیام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
آخر میں وائس چانسلر نے یقین دلایا کہ یونیورسٹی لیاری کے عوام کے لیے معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گی اور تمام انتظامی امور کو شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔





اپنی رائے دیں