سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی یہ اہم تقریب ملک کے اعلیٰ ترین عدلیہ کے مرکز، سپریم کورٹ کے احاطے میں منعقد کی گئی۔
تقریب کے دوران سپریم کورٹ کے دوسرے ججز، عدالتی عملے کے ارکان اور دیگر اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس پروقار موقع پر فضا انتہائی متوازن اور عدلیہ کے وقار کے مطابق تھی۔
معزز جج جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منیب اختر سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ اس تقریب کی کارروائی باقاعدہ روایات کے مطابق انجام دی گئی جس میں عدالتی روایات کا بھرپور پاس رکھا گیا۔
یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی ہے جب موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے نجی دورے پر انگلینڈ تشریف لے گئے ہیں۔ ان کی بیرون ملک موجودگی کی وجہ سے عارضی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان اکیس اکتوبر کو اپنے نجی دورے سے وطن واپس تشریف لائیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد وہ دوبارہ اپنے عہدے کے تمام باضابطہ فرائض سنبھال لیں گے۔
انگلینڈ سے واپسی اور چارج سنبھالنے تک جسٹس منیب اختر عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔ وہ اس مدت کے دوران عدالت عظمیٰ کے انتظامی اور عدلیہ کے معاملات کو دیکھیں گے۔
سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق عدلیہ کا نظام معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور تمام امور آئین اور قانون کے دائرہ کار میں جاری ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس کی زیر نگرانی بنچوں کی تشکیل اور کیسوں کی سماعت کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
جسٹس منیب اختر کا شمار سپریم کورٹ کے سینیئر اور تجربہ کار ججوں میں ہوتا ہے جو آئینی و قانونی امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے اس عارضی منصب سنبھالنے سے عدلیہ کے روزمرہ کے کاموں میں کوئی تعطل نہیں آئے گا۔
عدلیتی حلقوں میں اس حلف برداری کی تقریب کو معمول کی آئینی اور انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں سربراہ کی غیر موجودگی میں قائم مقام تقرر کی یہ روایت آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
شہر اقتدار میں ہونے والی اس تقریب کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عوام اور وکلابرادری کو بھی اس عارضی انتظام سے باخبر رکھا گیا ہے تاکہ عدلیہ کا کام بلا تعطل جاری رہے۔
انگلینڈ کا نجی دورہ مکمل کرنے کے بعد چیف جسٹس کی آمد پر معمول کی تمام دفتری اور عدلیہ کی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی۔ اس دوران جسٹس منیب اختر آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہیں گے۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت میں حلف برداری کی اس تقریب کا مقصد عدلیہ کے نظام کو کسی بھی قسم کے وقفے سے بچانا ہے۔ آئینی تقاضوں کے تحت یہ عارضی انتظام فوری طور پر کیا گیا تاکہ کوئی بھی دفتری امور التواء کا شکار نہ ہوں۔
تمام قانونی ماہرین نے اس تقریب اور عارضی تقرر کو آئین پاکستان کے مطابق قرار دیا ہے۔ جسٹس منیب اختر کے پاس طویل عدلیہ کا تجربہ ہے جس کی بدولت وہ ان تمام ذمہ داریوں کو نہایت کامیابی اور احسن انداز میں پورا کریں گے۔





اپنی رائے دیں