مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:36
تازہ
بجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئیعالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ برقرار رہےقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنی سالگرہ سادگی سے منا لیانیل کپور نے 39 سال بعد مشہور فلم مسٹر انڈیا کا اصل لباس پہن لیامعروف اداکارہ سکینہ خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیںرواں برس کا مون سون سیزن سات سال میں گرم ترین ریکارڈاینڈرائیڈ فون سے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن اور ری اسٹارٹ کرنا ممکنیمن کے حوثی گروپ کی مدینہ منورہ پر میزائل حملے کی سخت تردیدتمباکو نوشی مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھاتی ہے، نئی تحقیقمظفرگڑھ میں گھریلو تنازع پر بیوی کے مبینہ زہر دینے سے شوہر ہلاکپشاور اسکول عمارت گرنے کا واقعہ، طالبات کے اہم انکشافات سامنے آ گئےاپنا گھر اسکیم: درخواست کے لیے دستاویزات کی شرط کم کر دی گئیخیبر پختونخوا کے مختلف محکموں میں تعینات 300 قانونی مشیر نوکری سے فارغجسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا750 روپے والے پرائز بانڈ کی 108 ویں قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلانقومی ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے اپنی بتیس ویں سالگرہ منا لیماضی میں دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی: نائب وزیراعظم اسحاق ڈارپہلی بار نائکوپ بنوانے والے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اہم ہدایات جاریلانگ مارچ آئینی حق ہے، اختلاف رائے کا خاتمہ خطرناک ہے: راجہ ناصر عباسمذاکرات میں سب سے پہلے دہشتگردی کا نکتہ اٹھایا: محسن نقوی
صحت

جعلی ادویات کے خاتمے کیلئے ٹو ڈی بارکوڈ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزارت صحت نے ادویات پر بارکوڈ کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے شہری موبائل ایپ کے ذریعے دوا کی اصلیت جان سکیں گے۔

جعلی ادویات کے خاتمے کیلئے ٹو ڈی بارکوڈ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ملک بھر سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے مکمل خاتمے اور عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اہم اور نفاذ بخش قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے تیار کردہ نئے نظام کے تحت اب تمام دواؤں پر جدید ٹو ڈی بارکوڈز اور سیریل نمبرز کا اندراج لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو معیاری علاج کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ادویات پر ٹو ڈی بارکوڈ کے ٹرائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی اور وزیر صحت کو اس نظام کی تیاری پر بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ وزارت صحت پچھلے ڈیڑھ سال سے اس جدید نظام کے نفاذ پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں موجود جعلی، اسمگل شدہ اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کرنا ہے جو انسانی جانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مریضوں کو محفوظ ادویات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والے عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق نو اکتوبر کے بعد ملک بھر میں تیار ہونے والی تمام ادویات پر ٹو ڈی بارکوڈ لگانا قانونی طور پر لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ ضابطہ تمام مقامی دواساز کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کارپوریشنز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

صرف مقامی تیار کردہ ادویات ہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی تمام ادویات کی فروخت کے لیے بھی ٹو ڈی بارکوڈ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پابندی سے بغیر تصدیق کے مارکیٹ میں آنے والی درآمدی دواؤں کی ترسیل پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے گا۔

ڈریپ کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس نئے نظام کے نفاذ اور تکنیکی امور کے لیے دواساز کمپنیوں کے نمائندوں کی تربیت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اس ہدایت پر عمل درآمد کریں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عام شہریوں کو براہ راست شامل کیا گیا ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی گئی ہے جس کی مدد سے عام شہری کسی بھی دوا کے ڈبے پر لگا بارکوڈ سکین کر سکیں گے۔

شہری اس موبائل ایپ کو استعمال کرتے ہوئے محض چند منٹوں کے اندر یہ جان سکیں گے کہ ان کے ہاتھ میں موجود دوا اصلی ہے یا نقلی۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے عوام کو فوری طور پر مستند معلومات فراہم کی جائیں گی جو کہ صحت کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی ہے۔

موبائل ایپ کے ذریعے نہ صرف دوا کے اصلی یا نقلی ہونے کی تصدیق ہوگی بلکہ اس کی قیمت اور تاریخ تنسیخ بھی معلوم کی جا سکے گی۔ صارفین اسکرین پر دوا کی درست قیمت دیکھ سکیں گے جس سے زائد قیمت وصول کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

اس کے علاوہ ایکسپائر ہو چکی ادویات کی فروخت کو روکنے کے لیے بھی یہ ایپ انتہائی کارآمد ثابت ہوگی کیونکہ تاریخ تنسیخ گزر جانے کی صورت میں سسٹم فوری طور پر الرٹ جاری کر دے گا۔ اس شفافیت سے مریضوں کو خرید و فروخت میں دھوکہ دہی سے محفوظ رکھا جا سکے گاـ

صرف انسانی استعمال کی ادویات ہی نہیں بلکہ ویٹرنری اور پولٹری سیکٹر میں استعمال ہونے والی ادویات پر بھی اس نظام کو لاگو کیا جا رہا ہے۔ جانوروں اور مرغیوں کی ادویات پر بھی ٹو ڈی بارکوڈ کا نفاذ لازمی ہوگا تاکہ زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبے میں بھی بہتری لائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جعلی ادویات کا مسئلہ طویل عرصے سے سنگین نوعیت اختیار کیے ہوئے تھا جس سے غریب عوام کی صحت کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے آغاز سے اس گھناؤنے کاروبار میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

حکومت کا یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل گورننس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کی ایک کڑی ہے جس سے صحت کے نظام میں شفافیت آئے گی۔ شہریوں کی جانب سے بھی اس موبائل ایپ اور بارکوڈ کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے اور اس کی جلد از جلد دستیابی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں