برصغیر میں سماجی انصاف اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ہونے والی تحریکوں میں سندھ ہاری کمیٹی کی جدوجہد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ 1930 کی دہائی میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے کسانوں، مزدوروں اور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے جاگیردارانہ استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔
اس تحریک کا بنیادی مقصد ہاریوں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ دلانا اور فصل کی پیداوار میں آدھی بٹائی کا حق حاصل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے کامریڈ حیدربخش جتوئی نے اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر کسانوں کی قیادت سنبھالی اور سندھ بھر میں منظم تحریک کا آغاز کیا۔
تحریک کے دوران مائی بختاور لاشاری کی قربانی نے تاریخ میں ایک انمٹ نقش چھوڑا۔ جون 1947 میں جب گاؤں کے مرد ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے، مائی بختاور نے اناج کے ذخائر کو غیر مقامی جاگیرداروں کے قبضے سے بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
مائی بختاور کی شہادت نے سندھ کے کسانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس واقعے کے بعد قانونی لڑائی لڑی گئی جس کے نتیجے میں ذمہ داران کو سزائیں ہوئیں۔ یہ واقعہ آج بھی کسانوں کے لیے اپنے حقوق کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سندھ ہاری کمیٹی نے قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی اور زرعی اصلاحات کے لیے مسلسل آواز اٹھائی۔ تنظیم کا مطالبہ تھا کہ بڑی جاگیرداریاں ختم کی جائیں اور زمینوں کی ازسرنو تقسیم کے ذریعے کسانوں کو ان کا حق دیا جائے۔
اس تحریک میں صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ علمائے کرام اور سماجی رہنما بھی شامل تھے۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی کی قیادت میں تنظیم نے سندھ اسمبلی کے سامنے مظاہرے کیے اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے کسانوں کو قانونی تحفظ ملا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں مشینی دور کے آغاز اور سیاسی تبدیلیوں نے ہاری تحریک کی نوعیت کو تبدیل کر دیا۔ تاہم، کسانوں کے حقوق اور زمین کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ آج بھی سندھ کے زرعی حلقوں میں ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سندھ ہاری کمیٹی کی تاریخ کسانوں کو منظم کرنے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔ اس تحریک نے ثابت کیا کہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے استحصالی نظام کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
سندھ ٹیننسی ایکٹ میں مختلف ادوار میں کی گئی ترامیم پر بھی ماہرین کی جانب سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً آواز اٹھائی جاتی ہے تاکہ انہیں جدید غلامی سے بچایا جا سکے اور ان کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔
مائی بختاور کی قربانی اور ہاری کمیٹی کی جدوجہد سندھ کی سیاسی و سماجی تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ ان واقعات سے حاصل ہونے والا سبق آج بھی کسانوں کو اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن اور قانونی جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
سندھ میں زرعی اصلاحات کے نفاذ اور کسانوں کو زمین کا حق دینے کے لیے کی جانے والی کوششیں اس تحریک کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی اور ان کے ساتھیوں کی کاوشوں کو آج بھی سندھ کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
آج کے دور میں جب زراعت کے طریقے بدل چکے ہیں، کسانوں کو درپیش مسائل بھی نئے رخ اختیار کر چکے ہیں۔ ہاری کمیٹی کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسانوں کی خوشحالی کے بغیر ملکی معیشت کی ترقی کا خواب ادھورا ہے۔
آخر میں، سندھ ہاری کمیٹی کی یہ تاریخی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی طبقہ اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائے تو اسے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ مائی بختاور کا نام سندھ کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سورما کے طور پر زندہ رہے گا۔




اپنی رائے دیں