خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات ثابت ہونے پر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سیدو شریف اسپتال میں تعینات 6 افغان ڈاکٹرز کو بھی ہاؤس جاب سے روک دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے پی ایم ڈی سی کے مراسلے کی روشنی میں ان ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہاسٹل خالی کرنے اور پاکستان چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی غیر قانونی حیثیت اور پی ایم ڈی سی رجسٹریشن کے مسائل سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
صوبائی محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ طبی شعبے میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے جعلی اسناد اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات بھی جاری رکھی جائیں گی۔
خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کا مقصد عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے طبی اداروں میں نظم و ضبط اور میرٹ کی بالادستی کو فروغ ملے گا۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بعد صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کی اسناد کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کسی بھی غیر قانونی تقرری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سیدو شریف اسپتال انتظامیہ نے افغان ڈاکٹروں کو دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرانے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی امور کو متحرک کر دیا ہے۔ ان ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر ملک سے روانہ ہو جائیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا گیا ہے تاکہ طبی شعبے کی ساکھ کو بحال رکھا جا سکے۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق تمام برطرف ڈاکٹروں کو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام نے محکمہ صحت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کے مراکز میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہدایات کے تحت تمام سرکاری ہسپتالوں میں تعینات عملے کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔ اس عمل سے طبی شعبے میں موجود نقائص کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ اسناد رکھنے والے ڈاکٹروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائیں۔
صوبائی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اگر کسی ڈاکٹر کی اسناد جعلی ثابت ہوئیں تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
اس واقعے کے بعد طبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن اور تعلیمی اسناد کو پی ایم ڈی سی کے ریکارڈ کے مطابق درست رکھیں۔





اپنی رائے دیں