مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:38
بریکنگ
پشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیپاکستان ہاکی کی بحالی کیلئے نوجوان کھلاڑیوں کی سرپرستی ناگزیر ہے، احسن اقبالوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی او ایم کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتسفید چھڑی کا عالمی دن: مریم نواز کا بصارت سے محروم افراد کے عزم کو خراج تحسینپشاور: عمرہ زائرین کیلئے بغیر ویکسی نیشن سفر کی تاریخ میں توسیعملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک، بالائی حصوں میں بارش کا امکانسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات 2026-27 کے لیے حتمی امیدواروں کی فہرست جاریجمہوری نظام کو ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے، فیصل واوڈا کا بیانخیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نگار جوہربینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغازمیرا بہترین کرکٹ دور ابھی آنا باقی ہے، نسیم شاہ کا عزمخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: سینیٹر علی ظفر کا حکومت سے رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہاسلام آباد کے ہفتہ وار بازار کل سے بند کرنے کا فیصلہ، باضابطہ نوٹیفکیشن جاریبالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاریبالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم جاریحوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی: ترجمان
پاکستان

خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کے خاتمے کی خبریں بے بنیاد قرار

صوبائی حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان سے منسوب بیان اور ڈاکٹر نوشیروان برکی کی برطرفی کے نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا۔

خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کے خاتمے کی خبریں بے بنیاد قرار

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں صحت کارڈ کی سہولت ختم کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات حقائق کے منافی اور پروپیگنڈے پر مبنی ہیں۔

مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان سے منسوب صحت کارڈ کے خاتمے کا بیان مکمل طور پر جھوٹا ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ کچھ عناصر صوبائی حکومت کی عوامی فلاحی پالیسیوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو ایسی بے بنیاد افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے جو صرف انتشار پھیلانے کے لیے چلائی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کی ٹرمینیشن کے حوالے سے وائرل ہونے والے نوٹیفکیشن کو بھی صوبائی حکومت نے جعلی قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس طرح کے من گھڑت دستاویزات کا مقصد عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔

مشیر اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کی خدمت اور سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

حکومتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عوام کے مفاد میں شروع کیے گئے تمام فلاحی منصوبے بدستور جاری رہیں گے۔ حکومت ان منصوبوں کی افادیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔

ثمر ہارون بلور نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا بے ضابطگی پائی گئی تو اس کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے گا۔ شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کے لیے حکومت کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان خیبر پختونخوا کے امور چلانے کے لیے تشکیل دی گئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا حصہ ہیں۔ یہ کونسل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں صوبائی معاملات کی نگرانی کر رہی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے اس وضاحت کے بعد صحت کارڈ کے مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔ حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔

خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کا پروگرام ایک اہم عوامی سہولت ہے جس سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس سہولت کو مزید بہتر بنانا اور اس کی فعالیت کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومتی وضاحت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبریں معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں جن کی روک تھام ضروری ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ حکومت اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ کسی بھی قسم کی افواہ سازی کے باوجود عوامی فلاحی ایجنڈے پر کام بلا تعطل جاری رہے گا۔

صوبائی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی اہم پالیسی فیصلے کے بارے میں معلومات کے لیے سرکاری پریس ریلیز اور مستند نیوز ذرائع کا انتظار کریں۔ جعلی نوٹیفکیشنز اور بیانات کے ذریعے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات سے گریز کریں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں