لاہور کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مسائل وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہیں، جن سے عام شہریوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالخصوص سوئی گیس جیسی بنیادی ضرورت کی بندش نے گھریلو امور کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔
شہر کے گنجان آباد علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی مسلسل بندش نے مکینوں کا جینا محال کر دیا ہے جہاں لوگ روزمرہ کے امور کے لیے شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔ گیس کی اس غیر اعلانیہ بندش کے باعث خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے میں انتہائی دقت کا سامنا ہے۔
صبح کے اوقات میں جب گھروں میں ناشتے کی تیاری کا وقت ہوتا ہے تو گیس کی غائب ہونے کے باعث چولہے بالکل ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کو اسکول اور بڑوں کو دفاتر کے لیے تیار کرنا مکینوں کے لیے ایک روزانہ کا عذاب بن چکا ہے۔
گیس کی اس طویل اور مسلسل بندش سے نجات پانے کے لیے علاقہ مکینوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ متبادل ذرائع کا رخ کریں۔ مجبوراً شہری اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب مہنگی قیمتوں پر ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔
مارکیٹ میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اضافی اخراجات نے گھریلو بجٹ کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہیں اور اب ایل پی جی کی خریداری ان کی مالی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کی فراہمی کے بغیر بھی انہیں بھاری بھرکم بلز موصول ہو رہے ہیں جو کہ صریحاً ناانصافی ہے۔ ایک طرف گیس ملتی نہیں اور دوسری طرف بلوں کی ادائیگی لازم ہوتی ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا دوبھر ہو گیا ہے۔
گرین ٹاؤن کے مکینوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور علاقے میں سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔
شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سوئی گیس کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے تو کم از کم حکومت کو اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول کرنا چاہیے۔ قیمتوں میں بے لگام اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
موجودہ دور میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ ایسے میں سوئی گیس کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
شہر میں گراں فروشی کے خلاف مختلف علاقوں میں انتظامی کارروائیاں بھی جاری ہیں جن کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا تقاضا ہے کہ گیس اور توانائی کے شعبے میں بھی ایسے ہی سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت مل سکے۔
گرین ٹاؤن کے مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام ان کے اس دیرینہ اور اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ گیس کی فراہمی بحال ہونے سے نہ صرف لوگوں کے گھریلو اخراجات معمول پر آئیں گے بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی میسر آئے گا۔
شہر کے مختلف حصوں میں انتظامی امور اور ٹریفک کے حوالے سے بھی کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں قوانین کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کو تھانے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں عوامی بنیادی مسائل جیسے کہ گیس کی فراہمی پر بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی دیگر انتظامی امور پر دی جاتی ہے۔
عوام کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ریاست کی طرف سے گیس، پانی اور بجلی جیسی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں تاکہ معاشرے میں توازن برقرار رہے۔ امید کی جاتی ہے کہ متعلقہ ادارے گرین ٹاؤن کے باسیوں کی اس فریاد کو سنیں گے اور جلد از جلد سوئی گیس کی بحالی کا عمل مکمل کریں گے۔





اپنی رائے دیں