مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:16
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارپنجاب میں یتیم بچوں کی کفالت کے اداروں کی نگرانی پر سوالیہ نشانامریکی انتظامیہ نے دوسرے دورِ حکومت میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیےڈیرہ اسماعیل خان: درازندہ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے حملہ ناکام بنا دیاپنجاب بھر میں گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن، 445 افراد گرفتارلاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی بندش پر شہریوں کو مشکلاتاسلام آباد میں شیشہ کیفوں پر پابندی برقرار، رولز بنانے کا حکملاہور میں ایل پی جی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ، ڈسٹری بیوٹرز کی ہڑتال کی دھمکیبالی ووڈ فلم ’اڑتا تیر‘ نیپال میں نمائش سے محروم
پاکستان

خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز وزارت میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب

سرکاری آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی دور میں معدنیات کے شعبے میں قومی خزانے کو سولہ ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔

خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز وزارت میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں مائنز اینڈ منرلز کی وزارت کے اندر اربوں روپے کی کرپشن اور لوٹ مار کے اسکینڈل کے ناقابل تردید ثبوت منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ بدترین بدانتظامی نہیں بلکہ باقاعدہ ایک منظم مالیاتی بدعنوانی تھی جس نے صوبائی خزانے کو شدید ترین نقصان سے دوچار کیا۔

سرکاری آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران قومی وسائل کو سولہ ارب چورانوے کروڑ روپے سے زائد کا چونا لگایا گیا۔ اس انتہائی سنجیدہ معاملے پر مالیاتی ماہرین اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار بائیس اور سال دو ہزار تئیس کے درمیانی عرصے میں مبینہ مجرمانہ گٹھ جوڑ اور سرکاری سرپرستی کے باعث غیر قانونی کان کنی کی گئی جس سے آٹھ ارب روپے سے زائد کی رقم ہڑپ کی گئی۔

اس دوران سرکاری سطح پر کسی قسم کی روک ٹوک دیکھنے میں نہیں آئی اور مختلف مقامات پر قانون کی عملداری کو کمزور کیا گیا۔ اس سے مافیا کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا اور معدنی ذخائر کو بے دردی سے لوٹا گیا۔

محکمہ معدنیات اور چیک پوسٹوں پر انسپکٹرز کی موجودگی کے باوجود صوبہ بھر میں معدنی وسائل کی غیر قانونی نکاسی کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری رہا۔ اس سنگین غفلت اور ملی بھگت کی وجہ سے صوبائی خزانے کو مزید تین ارب آٹھ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نادہندہ ٹھیکہ داروں سے چار ارب اکتیس کروڑ روپے کے واجبات جان بوجھ کر وصول نہیں کیے گئے۔ واجبات کی عدم وصولی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس پورے عمل میں کرپشن کو اعلیٰ سطح پر آشکارہ تحفظ حاصل تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سمال ڈیمز اور شاہراہوں کی تعمیر کی آڑ میں ریت اور بجری کی غیر قانونی نکاسی کی گئی۔ اس مد میں تین ارب سات کروڑ روپے غائب کیے گئے اور سرکاری قاعدے و ضوابط کو یکسر پس پشت ڈال دیا گیا۔

معدنیات پر عائد کی جانے والی ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی کے معاملے میں بھی غفلت برتی گئی جہاں چون کروڑ بہتر لاکھ روپے کے فنڈز وصول ہی نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ کوئلہ، باکسائیٹ، لائم سٹون اور سوپ سٹون کی کانوں سے اکیاسی کروڑ روپے کے بقایاجات بھی معاف کر دیے گئے۔

پشاور جیسے اہم شہر میں محکمہ معدنیات کی قیمتی زمین دس ہزار روپے فی ایکڑ کے اصل نرخ کے برعکس محض دو سو روپے فی ایکڑ کے حساب سے الاٹ کی گئی۔ اس مبینہ غیر قانونی اقدام سے عوام کی جیبوں سے چودہ کروڑ روپے نکال لیے گئے۔

صوبے کے دیگر اضلاع بشمول کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور میں چھوٹے ڈیمز کے واجبات کی وصولی نہ ہونے کی وجہ سے ترپن کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ اس طرح مردان کے اندر رائلٹی کی مد میں چھ کروڑ چھتیس لاکھ روپے بھی دبا لیے گئے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں ان تمام بے ضابطگیوں کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت انکوائری کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملوث عہدیداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل کی اس طرح کھلی لوٹ مار پر عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معدنیات کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنانا اور کرپشن میں ملوث عناصر کا کڑا احتساب کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

سرکاری سطح پر انکشافات سامنے آنے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ ادارے اس مالیاتی بدعنوانی کی تہہ تک پہنچیں گے۔ صوبائی وسائل کی اس مبینہ لوٹ مار کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جلد شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں