مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:56
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی وارجدہ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل، 45 منٹ بعد بحالکراچی: مسافر بس سے کروڑوں مالیت کے اسمگل شدہ موبائل فونز اور ٹیبلٹس برآمدایران جوہری معاہدہ یا تباہ کن جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرے، امریکی وزیر دفاعامریکی وزیر دفاع کی ایران کو جوہری عزائم ترک کرنے یا فوجی کارروائی کی دھمکییوکرین کا روسی آئل ریفائنریز پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلانکراچی میں ٹریفک کے دو مختلف حادثات، ایک راہگیر جاں بحق اور ایک زخمیکراچی: نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کا شکار ہو کر کمسن بچی سمیت 2 افراد زخمیایف بی آر کی تنظیم نو کے خلاف ہڑتال کی کال واپس، افسران معمول کے مطابق کام کریں گےلندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاجچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کا دورہ ملتان، متعدد منصوبوں کا افتتاح کریں گی
پاکستان

جامعہ کراچی میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کیلیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر

جامعہ کراچی کے طلبہ کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں اسٹوڈنٹ یونینز کے انتخابات فوری منعقد کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔

جامعہ کراچی میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کیلیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر

جامعہ کراچی میں طلبہ یونینز کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں پہنچ گیا ہے جہاں اس حوالے سے ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت میں دائر کی جانے والی اس درخواست کے ذریعے صوبائی تعلیمی اداروں اور بالخصوص جامعہ کراچی میں طویل عرصے سے معطل طلبہ یونینز کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں صوبائی حکومت اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے تاکہ عدالت کے ذریعے اس اہم تعلیمی و انتظامی معاملے پر احکامات جاری کروائے جا سکیں۔ اس قانونی اقدام سے تعلیمی حلقوں میں طلبہ سیاست اور یونینز کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

جامعہ کراچی کے اسکول آف لاء سے تعلق رکھنے والے دو طلبہ علی شیر اور محمد حارث نے یہ درخواست دائر کی ہے۔ ان طلبہ نے عثمان فاروق ایڈووکیٹ کی وساطت سے سندھ ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تاکہ جامعات میں طلبہ کے جمہوری حقوق کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

درخواست میں جن اہم سرکاری اور انتظامی شخصیات کو فریق نامزد کیا گیا ہے ان میں چیف سیکریٹری سندھ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ اور سیکریٹری کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

اس قانونی کارروائی میں سیکریٹری قانون و پارلیمانی امور حکومت سندھ کو بھی فریق کی حیثیت دی گئی ہے۔ فریقین کی فہرست میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تمام متعلقہ ادارے اس عمل میں جوابدہ ہوں۔

درخواست گزار طلبہ کے مؤقف کے مطابق صوبائی اسمبلی کی طرف سے سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ 2019 منظور کیا جا چکا ہے۔ اس قانون کی منظوری کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے جمہوری عمل کو بحال کرنا اور مثبت سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔

مؤقف میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ قانون سازی کا یہ عمل مکمل ہونے اور باقاعدہ منظوری کے باوجود تاحال جامعہ کراچی کی سطح پر اسٹوڈنٹ یونینز کے انتخابات کرانے کی غرض سے ضروری ضوابط اور قواعد تشکیل نہیں دیے گئے۔ قواعد کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبہ یونینز کا قیام عمل میں نہیں آ سکا۔

درخواست میں عدالت عالیہ سے پرزور استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت سندھ کو اس امر کا پابند بنائے کہ وہ فوری طور پر متعلقہ قواعد و ضوابط کا جائزہ لے۔ قواعد کی تیاری کے بعد اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت بھی عدالت سے مانگی گئی ہے۔

مزید برآں درخواست گزاروں نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف بھی رکھا ہے کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو احکامات جاری کیے جائیں کہ وہ جلد از جلد ایک آزاد الیکشن کمیشن قائم کرے۔ الیکشن کمیشن کے قیام کے بعد جامعہ میں طلبہ یونینز کے انتخابات بلا تاخیر منعقد کرائے جائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ایک طویل عرصے سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد چلی آ رہی ہے جس کے باعث جامعات میں تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں اور طلبہ کی قیادت سازی کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماضی میں طلبہ یونینز کی سرگرمیوں کو ضابطے میں لانے اور کیمپس کی سیاست کو پرامن بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف سطح پر تجاویز اور قانون سازی کی جاتی رہی ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے منظور شدہ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کو اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا تاہم اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ طلبہ تنظیمیں اور اسٹوڈنٹس اس قانون کے تحت عملی اقدامات کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے جائز جمہوری حقوق کے تحت یونین کی سطح پر نمائندگی حاصل کر سکیں۔

عدالت عالیہ میں اس درخواست کی سماعت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ سندھ ہائیکورٹ اس اہم نوعیت کے مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کرے گی۔ عدالت کے اس فیصلے سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ سندھ بھر کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ یونینز کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیشرفت متوقع ہے۔

تعلیمی ماہرین اور قانونی حلقوں کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ طلبہ یونینز کی بحالی سے جامعات میں مثبت جمہوری کلچر پروان چڑھے گا۔ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے اس درخواست پر آنے والا فیصلہ آنے والے دنوں میں صوبے بھر کی جامعات کے لیے ایک بنیادی نظیر کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں