مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:37
بریکنگ
فرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی واراسرائیلی کمپنیوں کا صحافیوں کی جاسوسی کا نیا اسکینڈل سامنے آ گیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کے لیے عزم کا اعادہلاہور میں پولیس افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے، متعدد ایس ایچ اوز تعیناتوزارت اطلاعات نے امریکی بحریہ کے پاکستانی حدود سے کارروائیوں کے دعوے مسترد کر دیےاسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گینادرا کا جدید موبائل رجسٹریشن سسٹم متعارف، شہریوں کو دہلیز پر سہولیات ملیں گیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو عہدے سے ہٹا دیافرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پرہنگری میں پاکستان کا پہلا رائس فیسٹیول، باسمتی چاول یورپی منڈیوں میں متعارفعالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر پیپلز پارٹی کی شدید تنقیدمصری صدر عبدالفتاح السیسی کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا حتمی اعلان
صحت

مائیکرو ڈوزنگ: کیا وزن کم کرنے والی ادویات کی بہت کم مقدار لینا محفوظ ہے؟

اوزیمپک اور ویگووی جیسے انجیکشنز کی بہت کم مقدار لینے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم طبی ماہرین نے اسے خطرہ قرار دے دیا۔

مائیکرو ڈوزنگ: کیا وزن کم کرنے والی ادویات کی بہت کم مقدار لینا محفوظ ہے؟

عالمی سطح پر وزن میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی بہت کم مقدار لینے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جسے مائیکرو ڈوزنگ کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت اوزیمپک، ویگووی اور مونجارو جیسی ادویات کی تجویز کردہ مقدار سے کہیں کم خوراک استعمال کی جاتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس طریقے کے حق میں سائنسی شواہد تاحال انتہائی محدود ہیں۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ کم مقدار لینے سے انہیں متلی اور قے جیسے مضر اثرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے جبکہ اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔

تاہم طبّی محققین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے خود ساختہ طریقوں کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ممالک میں ان ادویات کا استعمال بنیادی طور پر ٹائپ ٹو ذیابیطس اور مخصوص بی ایم آئی والے افراد کے لیے منظور شدہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس نوعیت کی جی ایل پی ون ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ادویات جسم میں قدرتی ہارمون کی نقل کرتے ہوئے بھوک اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتی ہیں۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں کیے گئے حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ان انجیکشنز کے صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے ایک قابل ذکر تناسب ایسے افراد کا ہے جو کسی ماہرِ طب کے مشورے کے بغیر مائیکرو ڈوزنگ کر رہے ہیں۔

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کا کہنا ہے کہ وہ مالی بچت اور خوراک سے متعلق مسلسل خیالات کو کم کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ وہ انجیکشن پین کے کلکس گن کر یا آن لائن گائیڈز کی مدد سے خوراک کا تعین کرتے ہیں۔

طبی ماہرین اس عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقدار کے غلط حساب سے زیادہ خوراک لینے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید قسم کی متلی، قے اور جسم میں پانی کی شدید کمی جیسی شکایات لاحق ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور اہم تشویش ادویات میں آلودگی اور انفیکشن کا خطرہ ہے۔ جب ایک بار استعمال ہونے والی شیشیوں سے بار بار خوراک نکالی جائے تو جراثیم داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ادویات ساز ادارے نووو نورڈِسک اور ایلی للی بھی اس طرح کے طریقۂ استعمال کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ ادویات کو ہمیشہ منظور شدہ طبی ہدایات کے مطابق ہی استعمال کیا جانا چاہئے۔

برطانیہ اور امریکہ کے صحت کے نگران ادارے اس نوعیت کی ادویات اور لبلبے کی سوزش کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں۔ محققین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کم مقدار لینے سے ان طبی خطرات میں کوئی کمی آتی ہے یا نہیں۔

کچھ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر یہ عمل کسی مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے تو بعض مریضوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس سے دوائی کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے اور ضمنی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔

تاہم طبی ماہرین زور دیتے ہیں کہ خود ساختہ مائیکرو ڈوزنگ اور ڈاکٹر کی نگرانی میں کی جانے والی خوراک کی ایڈجسٹمنٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے مزید وسیع پیمانے پر سائنسی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں ہونے والے طبی مطالعات ہی یہ واضح کر سکیں گے کہ مائیکرو ڈوزنگ کے طویل مدتی اثرات کیا ہیں۔ اس وقت تک ماہرین کا مشورہ ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتی جائے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں