سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس ماہ قبل کی گئی ان کی پیش گوئیوں میں سے تین درست ثابت ہو چکی ہیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ملک کا سیاسی نظام اب 'ری بوٹ' ہو چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مستحکم بنانا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ نہ تو مارشل لا کے حامی ہیں اور نہ ہی صدارتی نظام کے خواہشمند ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت کا ری بوٹ ہونا دراصل اس نظام کو درست سمت میں لانے اور اسے عوامی مفاد کے مطابق چلانے کا ایک عمل ہے۔
سیاسی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں میں یکساں ترقی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف ایک صوبے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے پورے ملک میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ عوام کو سیاسی نعروں، پریس کانفرنسوں اور ڈنڈے جھنڈے کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عوام کی بنیادی ترجیحات میں آٹا، چینی، دودھ، تعلیم اور صحت کی سہولیات شامل ہیں جو انہیں سستے اور معیاری انداز میں درکار ہیں۔
انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیادت عوام کے لیے عملی طور پر کام کرے گی تو عوام انہیں عزت دیں گے، بصورت دیگر سیاسی قیادت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اب کارکردگی دکھانے کا وقت ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جن لوگوں نے غریب عوام کی خدمت کے دعوے کیے، وہ آج خود ارب پتی بن چکے ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو اپنی توجہ سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہیے۔ عملی اقدامات ہی وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے ملک میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
فیصل واوڈا نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ملک میں آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق نظام کا چلنا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیاسی استحکام آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بلند کرنا ہوگا۔ عوام اب وعدوں کے بجائے عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، اور یہی وہ معیار ہے جس پر اب ہر سیاسی جماعت کو پرکھا جائے گا۔
سابق وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک میں جاری سیاسی عمل کا مقصد عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے، سیاسی نظام پر عوامی تنقید کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ جیسے بڑے صوبوں میں بھی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور وہاں بھی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔





اپنی رائے دیں