مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:38
بریکنگ
کراچی: کینیڈا سے لوٹنے والے معمر جوڑے کا گھر میں پراسرار قتللاہور میں موسلادھار بارش، سڑکیں زیر آب، موٹر ویز پر ٹریفک کی روانی متاثررواں برس کا مون سون سیزن سات سال میں گرم ترین ریکارڈاینڈرائیڈ فون سے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن اور ری اسٹارٹ کرنا ممکنیمن کے حوثی گروپ کی مدینہ منورہ پر میزائل حملے کی سخت تردیدتمباکو نوشی مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھاتی ہے، نئی تحقیقمظفرگڑھ میں گھریلو تنازع پر بیوی کے مبینہ زہر دینے سے شوہر ہلاکپشاور اسکول عمارت گرنے کا واقعہ، طالبات کے اہم انکشافات سامنے آ گئےاپنا گھر اسکیم: درخواست کے لیے دستاویزات کی شرط کم کر دی گئیخیبر پختونخوا کے مختلف محکموں میں تعینات 300 قانونی مشیر نوکری سے فارغجسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا750 روپے والے پرائز بانڈ کی 108 ویں قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلانقومی ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے اپنی بتیس ویں سالگرہ منا لیماضی میں دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی: نائب وزیراعظم اسحاق ڈارپہلی بار نائکوپ بنوانے والے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اہم ہدایات جاریلانگ مارچ آئینی حق ہے، اختلاف رائے کا خاتمہ خطرناک ہے: راجہ ناصر عباسمذاکرات میں سب سے پہلے دہشتگردی کا نکتہ اٹھایا: محسن نقویخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے بچنے کی پوری کوشش کی، محسن نقویخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی، شہریوں کا مکمل اطمینان کا اظہارجعلی ادویات کے خاتمے کیلئے ٹو ڈی بارکوڈ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
پاکستان

دہشت گردی کے خاتمے تک ایمرجنسی جاری رہے گی: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فیصل واوڈا کی گفتگو سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

دہشت گردی کے خاتمے تک ایمرجنسی جاری رہے گی: رانا ثناء اللہ

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی کا بنیادی اور واحد مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنے اس اہم ترین مقصد کے حصول تک اس اقدام کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے چاہے اس کے لیے جتنا بھی وقت درکار ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مدت ایک سال ہو یا دو ہزار انتیس تک چلی جائے، حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔

رانا ثناء اللہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ریاست اپنا یہ بنیادی ہدف حاصل کر لے گی تو پارلیمنٹ کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جب چاہے اس ایمرجنسی کو ختم کر دے کیونکہ کوئی بھی انتظامی قدم ہمیشہ کے لیے نافذ نہیں رکھا جا سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فیصل واوڈا کی طرف سے کی جانے والی گفتگو سے ان کی پارٹی اور حکومت کا کوئی سروکار نہیں ہے۔

حالات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف قومی موقف کے ساتھ کھڑی ہوتی اور ریاست کا ساتھ دیتی تو اس طرح کے سخت اقدامات اٹھانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جنگ دراصل ملک کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے جسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ اب ملک کو اس روایتی دہشت گردی کا سامنا نہیں ہے جس کا مقابلہ پاکستان پچھلے چالیس سال سے کرتا چلا آ رہا ہے بلکہ اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ معرکہ حق میں دشمن نے بخوبی دیکھ لیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی کھلی عالمی جنگ لڑنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اسی مجبوری کے تحت دشمن طاقتوں نے مختلف پراکسیز کے ذریعے ملک کو اندرونی طور پر نقصان پہنچانے کا مذموم ارادہ کیا ہے۔

ملکی قیادت کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ اسی پس منظر میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک پیج پر ہو کر مکمل اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ اب اس ناسور کا پوری قوت کے ساتھ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیمیں اور بعض سیاسی عناصر ریاست مخالف سرگرمیوں بالخصوص بھتہ خوری اور منشیات کے دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو شخص خود پاکستان کے دشمنوں کی پناہ گاہ میں بیٹھا ہوا ہو، اس سے کسی بھی قسم کی خیر یا بہتری کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی پس منظر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ دور میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے جو ٹیم تشکیل دی گئی تھی وہ انتہائی سینئر اور معاملات کی مکمل فہم و فراست رکھنے والی شخصیات پر مشتمل تھی۔

مذاکرات کے حوالے سے اندرونی کہانی سناتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جب حکومتی کمیٹی سہیل آفریدی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بات کرتی تھی تو وہ کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے پسِ پردہ بیٹھے کسی اور شخص سے ہدایات لینے کے پابند تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تمام عمل کے پیچھے مراد سعید موجود تھے جو کسی بھی صورت ان مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔

لیگ ن کے رہنما کے مطابق مراد سعید کے ذہن میں ایک خیالی اور جھوٹا تصور سمایا ہوا تھا کہ وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کر کے سب کچھ تہہ و بالا کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے غیر سنجیدہ رویوں کی وجہ سے سیاسی ماحول خراب ہوا اور بات اس نہج تک پہنچی۔

صوبائی معاملات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود متعلقہ صوبے کی تعمیر و ترقی کے تمام تر فلاحی کام معمول کے مطابق بلا تعطل جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی سرگرمیوں کو روکا نہیں جائے گا بلکہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کا عمل بھی ساتھ ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

ملکی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ملک کے کونے کونے سے امن دشمن عناصر کا صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کڑے وقت میں پوری قوم کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔

رانا ثناء اللہ نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری اور پائیدار امن کے قیام کے لیے دہشت گردی کے اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے جس کے لیے تمام ادارے متفق ہیں۔

حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی سطح پر اٹھائے جانے والے یہ تمام اقدامات کسی جماعت یا فرد واحد کے خلاف نہیں بلکہ ان کا واحد ہدف ملکی مفاد اور عوامی تحفظ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتشار پھیلانے والی قوتیں اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ عوام اور ادارے ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے امور پر یک زبان ہوں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے احسن طریقے سے نبرد آزما ہوا جا سکے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان جلد ہی ان تمام مشکلات سے کامیابی کے ساتھ باہر نکل آئے گا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں