مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
کامو کا یوئیفا چیمپئنز لیگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ، لینس کو ایک کے مقابلے میں نو گول سے شکستون کنسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشافایران جنگ امریکی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ بنی، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کے لیے مقررامریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست، پارٹی اندر شدید ردعملامریکہ: نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں شکست کی وجہ ایران جنگ کو قرار دے دیاسمیر منہاس کی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت، عظیم گھمن کی حمایتیوکرین کے امدادی مرکز پر روسی حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئیہوسٹن ایسٹروز کا مینیجر کے عہدے کیلئے البرٹ پوجولس اور مورگن اینزبرگ سے انٹرویوز کا فیصلہپی ٹی آئی کا عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہپاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم اے سی سی ایشیا کپ میں مہم کا آغاز کل کرے گیبرطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی سپریم کورٹ میں چیلنج، درجنوں گرفتاراسلام آباد میں ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی قبضہ لے لیا گیا، فائیو سٹار ہوٹل بنے گا: محسن نقویعوام تنگ آئے تو اسرائیل کا وزیراعظم بن جاؤں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانامریکی وسط المدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی کامیابی سے عالمی سطح پر ہلچلنائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہشین ڈائٹ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقررسالک حسین کرپشن کے ثبوت دیں یا معافی مانگیں: عظمیٰ بخاری کا مطالبہامریکہ میں مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی کانگریس پر شاندار کامیابیایران جنگ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ بنی: نائب صدر جے ڈی وینس
دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس

امریکی صدر نے فورٹ ہڈ فائرنگ کیس کے مجرم کی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا متنازع منصوبہ ترک کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نضال حسن امریکی فوج میں بطور ماہرِ نفسیات خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

صدر ٹرمپ کا ابتدائی مؤقف یہ تھا کہ اس پھانسی کو آن لائن براہِ راست دکھایا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے اور یہ منظر ایک عبرت کا نشان بن سکے۔

تاہم اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد امریکی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی صدر کے اس فیصلے سے کھل کر اختلاف کیا اور کہا کہ وہ خود اس قسم کی نشریات دیکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔

اس معاملے پر امریکا کے 72 ریٹائرڈ جرنیلوں، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

ان فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نشریات اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہوں گی۔ دباؤ بڑھنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نیک نیت لوگ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نضال حسن کی سزائے موت پر اپنے مقررہ وقت پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم اب اسے کسی بھی پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی تشہیر کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 5 نومبر 2009 کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں نضال حسن نے فوجی اڈے کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے نضال حسن کی سزا پر عمل درآمد کا معاملہ طویل عرصے تک قانونی پیچیدگیوں اور بحث کا شکار رہا ہے۔ اب جبکہ حتمی فیصلہ سامنے آ چکا ہے، سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور مجرم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے گی، تاہم اخلاقی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نشریات سے گریز کیا جائے گا۔

اس فیصلے کا خیرمقدم ان حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو اسے ایک غیر روایتی اور غیر ضروری اقدام قرار دے رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی عدالتی اور فوجی روایات کے عین مطابق ہے۔

اب جبکہ براہِ راست نشریات کا تنازع ختم ہو چکا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں