پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ انہیں اس لیگ کے لیے بطور مینٹور خدمات انجام دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق وسیم اکرم کو ایک فرنچائز کی جانب سے افغانستان پریمیئر لیگ کی آکشن تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔
سابق لیجنڈری آل راؤنڈر نے یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی موجودہ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ پی سی بی نے قومی کرکٹرز کو افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے این او سی جاری نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
وسیم اکرم نے بورڈ کی پالیسی کے خلاف نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے لیگ کی آکشن تقریب میں شرکت کی دعوت بھی قبول نہیں کی۔
دوسری جانب افغانستان پریمیئر لیگ کے ڈرافٹ میں سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کو قندھار واریئرز نے اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔
محمد عامر نے یہ رجسٹریشن برطانوی پاسپورٹ کی بنیاد پر کروائی ہے کیونکہ وہ اس وقت انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے رواں سال مئی میں برطانوی شہریت حاصل کی تھی۔
قندھار واریئرز نے افغانستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نبی سے قبل اپنی پہلی ہی پک میں محمد عامر کو ٹیم کا حصہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان پریمیئر لیگ کا آکشن 3 نومبر کو متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوا تھا جبکہ یہ لیگ رواں سال کے آخر میں کھیلی جائے گی۔
اس معاملے پر مزید اطلاعات کے مطابق، عرفان پٹھان نے افغان پریمیئر لیگ میں محمد عامر کے انتخاب سے اپنی لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کے لیے این او سی کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا گیا ہے تاکہ قومی کھلاڑیوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔


اپنی رائے دیں