پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے ایک اہم اجلاس کے دوران 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس ترمیم کی حمایت صرف عمران خان کی رہائی کی صورت میں ہی ممکن ہوگی۔
اجلاس کے دوران پارٹی کی جانب سے ایک 6 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی عمران خان تک رسائی اور ان کے علاج معالجے کے معاملات کی نگرانی کرے گی اور حکومت سمیت متعلقہ شخصیات سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرے گی۔
اس اہم کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔ کمیٹی میں دو ارکان قومی اسمبلی اور دو سینیٹرز شامل ہوں گے، جن میں پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ایک ایک نمائندہ بھی شامل کیا جائے گا۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ کروایا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے تمام تر خدشات کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارٹی نے اسے آئین اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی گئی۔
پارٹی نے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابی مینڈیٹ کو بحال کیا جائے یا ملک میں نئے شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ یہ مطالبہ پارٹی کے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد میں 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف شفاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید برآں، پارلیمانی پارٹی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو واپس لینے پر بھی زور دیا۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ ان ترامیم سے متعلق تحفظات کو دور کرنا ملک میں سیاسی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کو متحد رہنا ہوگا اور اپنے مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔ تمام ارکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ پارٹی پالیسی کے مطابق اپنے حلقوں میں متحرک رہیں۔
پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں آئینی اور سیاسی معاملات پر بحث جاری ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
اجلاس کے اختتام پر پارٹی ترجمان نے کہا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی جلد ہی اپنے کام کا آغاز کرے گی اور حکومت کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے پارٹی قیادت کو آگاہ رکھے گی۔ عمران خان کی رہائی پارٹی کی اولین ترجیح برقرار رہے گی۔




اپنی رائے دیں